قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 17 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 17

قدرت ثانیہ کا دور اوّل صاحب۔مولانا سید حسین صاحب اور مولوی رحمت اللہ صاحب سے علی الترتیب ابوداؤد صحیح مسلم اور مسلم پڑھیں۔مکہ میں ہی مدینہ کے شیخ المشائخ حضرت شاہ عبد الغنی صاحب سے آپ کا تعارف ہوا اور آپ نے ان کی خدمت میں درخواست کی کہ ”مجھے اپنے حلقہ درس میں شامل کر لیں۔“ حضرت شاہ صاحب نے فرمایا کہ تمام کتابوں سے فارغ ہو کر مدینہ آنا چاہیے۔چنانچہ آپ مذکورہ بالا علماء سے فارغ التحصیل ہو کر حضرت شاہ صاحب کے پاس پہنچ گئے۔مد بینہ بہ معظمہ میں آپ عبادات اور زیارت مقامات مقدسہ سے منازل سلوک طے کرنے لگے۔اب آپ کا زمانہ طالب علمی ختم ہو چکا تھا اور آپ عارفانہ بصیرت حاصل کرنے کے دور میں داخل ہو گئے تھے۔انہی دنوں آپ نے کافی غور و فکر کے بعد حضرت شاہ عبد الغنی صاحب کی بیعت کر لی جنہوں نے آپ کو اپنے باقی مریدوں کے برعکس کوئی لمب وظیفہ اور وردنہ بتایا بلکہ صرف آیت شریفہ نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيد اور وَالله مَعَكُمْ آيْنَما كُنْتُمْ پر غور وخوض کرنے کو کہا۔اس کے متعلق حضرت مولانا صاحب فرماتے ہیں کہ : اس توجہ میں میں نے بار ہا حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور اپنی بعض غفلتوں اور سستیوں کے نتائج کا مشاہدہ کیا۔“ (مرقاة الیقین ) مدینہ منورہ کی برکات سے استفادہ کر کے آپ دوبارہ ام القریٰ مکہ معظمہ تشریف لے آئے اور ایک بزرگ شیخ مخدوم صاحب کے پاس اقامت گزیں ہوئے۔1869ء میں دوبارہ حج کا شرف حاصل کیا اور چند ماہ کے قیام کے بعد پختہ علم۔وسیع تجربہ اور عارفانہ شان لئے 1871,1870ء میں مراجعت فرمائے وطن ہوئے۔دہلی پہنچنے پر آپ کو معلوم ہوا کہ آپ کے استاد حضرت حکیم علی حسین صاحب یہاں تشریف لائے ہوئے ہیں۔آپ نے ان سے ملاقات کی اور ان کے ہمراہ لاہور تشریف لائے۔اور لاہور سے اپنے آبائی وطن بھیرہ پہنچ گئے۔(اس وقت آپ کی عمر قریب تھیں 30 سال تھی۔) اس سفر میں اللہ تعالیٰ نے قدم قدم پر آپ کے ساتھ عجیب رحیمانہ سلوک کیا۔جس کا اندازہ آپ (17)