قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 96 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 96

قدرت ثانیہ کا دور اول متفرق اہم واقعات 1 - مدرسہ احمدیہ جماعت احمدیہ کے قیام کی اصل غرض و غایت اس تعلیم کو دنیا میں دوبارہ قائم کرنا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور اس کی تکمیل اشاعت، حضرت مسیح موعود کا فرض منصبی قرار دیا گیا۔آپ نے اللہ پر توکل کرتے ہوئے تن تنہا اس کام کا افتتاح فرما یا بعد میں آپ کو چند معاون بھی مل گئے جن میں حضرت مولوی نور الدین، حضرت مولوی عبدالکریم صاحب حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ، حضرت مفتی محمد صادق صاحب ، حضرت مولوی محمد سرور شاہ صاحب اور حضرت مولوی محمد احسن صاحب امروہی کے اسماء خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔1905ء میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی اور حضرت مولا نا برہان الدین جہلمی کی وفات پر حضرت مسیح موعود کو خیال پیدا ہوا کہ ایسے علماء کے جانشین پیدا کرنے کے لئے جماعت میں ایک مدرسہ ہونا چاہیے جو خالص دینی تعلیم دے تاکہ دعوت الی اللہ کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے چنانچہ 1905 ء کے جلسہ سالانہ میں آپ نے اس ضرورت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے نہایت پر اثر تقریر فرمائی اور تمام جماعت کے اتفاق و تائید سے ابتدأ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ساتھ دینیات کلاس کا اضافہ کر دیا گیا۔حضرت خلیفہ اول کے زمانے میں دینی تعلیم کی ضرورت کو باحسن طریق پورا کرنے کے لئے ایک الگ اور باقاعدہ مدرسہ جاری کر دیا گیا۔اس جگہ یہ امر خالی از دلچسپی نہ ہوگا کہ اس مدرسہ کی ابتدا سخت مخالف حالات میں ہوئی یعنی 1908ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر زعماء احمدیت میں سے بعض نے دینی تعلیم کو غیر ضروری سمجھتے ہوئے اس مدرسہ کو بند کرنے کی کوشش کی۔ہمارے اولوالعزم قائد حضرت محمود نے غیر معمولی تدبر و دور اندیشی سے اس فیصلہ کے مضرات کو بھانپ لیا اور اس وقت جبکہ قریب تھا کہ جماعت کی روحانی وعلمی ترقی کے ذریعہ کو بند کرنے کا فیصلہ کر (96)