قسمت کے ثمار — Page 87
اسے وہ پیسے بلکہ اس سے بھی زیادہ پیسے خرچ کرنے پڑیں گے کیونکہ ضرورت تو پوری کرنی ہی پڑتی ہے۔اسی لئے کہا جاتا ہے۔ہر کہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار اور غالباً ایسے ہی مواقع پر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ: مہنگا روئے ایک بار، سستا روئے بار بار بخل کا یہی نقصان نہیں ہوتا کہ اسکی وجہ سے دوسرے لوگ جائز فائدہ حاصل کرنے سے محروم ہو جاتے بلکہ سب سے زیادہ نقصان تو خود بخیل کو پہنچ رہا ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے بخل کی وجہ سے نیکی کے مواقع سے ترقی کے مواقع سے تعلقات میں وسعت کے مواقع سے اپنے آپ کو محروم کرنے کے علاوہ اپنی اس حالت پر ہر وقت کڑھتے رہنے کی وجہ سے مستقل تکلیف میں مبتلا رہتا ہے۔اور اس طرح وقت پر صحیح فیصلہ کرنے اور صحیح اقدام کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو کر ایک نشان عبرت بن جاتا ہے۔یادر ہے کفایت شعاری اور بخل میں بہت فرق ہے۔کفایت شعاری تو یہ ہے کہ سوچ سمجھ کر کم خرچ پر اپنی ضروریات کو پورا کیا جائے اور ضروریات کو بھی محدود رکھنے کی کوشش کی جائے اور اسراف و فضول خرچی سے بچا جائے۔حضرت میر محمد اسمعیل صاحب نے آپ بیتی میں بخل کی ایک عجیب مثال بیان کی ہے آپ لکھتے ہیں کہ : " طالب علمی کے زمانہ میں میڈیکل ہوٹل میں ایک طالب علم اپنی بخیلی کی وجہ سے مشہور بلکہ بدنام تھے۔ایک دن دوستوں نے دیکھا کہ وہ صاحب دودھ اور جلیبی کا ناشتہ کر رہے ہیں۔سب دیکھنے والوں کو بہت تعجب ہوا اور کسی نے آگے بڑھ کر ان سے پوچھ ہی لیا کیوں صاحب یہ کیا عیاشی ہو رہی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ 87