قسمت کے ثمار — Page 80
وقف زندگی بے نفس ایثار پیشہ لوگ دنیا کی بہتری اور بھلائی کیلئے ہر قسم کی قربانی پیش کر کے اور مشکلات اور تکالیف برداشت کر کے اطمینان اور سکون حاصل کرتے ہیں۔انبیاء اس لحاظ سے مثالی وجود ہوتے ہیں جو بغیر کسی لالچ، خود غرضی یا نام ونمود کے سب کچھ خدا تعالیٰ کے راستہ میں قربان کر دیتے ہیں۔آنحضرت سالی ایم کے بے مثال اسوۂ حسنہ کی پیروی میں حضرت مسیح موعود علینا نے بھی اس مبارک طریق پر چلتے ہوئے، ہر وہ چیز جو آپ کے قبضہ اختیار میں تھی ، خدا تعالیٰ کے راستہ میں جھونک دی۔براہین احمدیہ کی تیاری و اشاعت کے سب اخراجات برداشت کرنے کے علاوہ دشمنان اسلام کو لاجواب کرنے اور ان پر حجت تمام کرنے کیلئے دس ہزار روپے کا انعام رکھا جو اس زمانہ کے لحاظ سے آپ کی کل جائیداد کے برابر ایک بہت بڑی رقم تھی۔احیائے دین اور اقامتہ شریعت کی مہم میں شامل ہونے والے خوش قسمت افراد کی مہمان نوازی کیلئے حضرت اماں جان بینی پیشن کے زیور فروخت کر کے لگا دئے اور کئی دفعہ یہ صورت بھی پیش آئی کہ اپنا کھانا اور اپنا بستر بھی مہمانوں کو دے دیا اور خودسر دیوں کی لمبی راتیں بستر کے بغیر بسر کر دیں۔حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی یہ کی روایت کے مطابق حضرت مسیح موعود علی شام نے اپنی دنیاوی زندگی کے آخری دن فٹن پر سوار ہوتے ہوئے یہ تاکید فرمائی کہ گاڑی بان کو یہ اچھی طرح سمجھا دیا جائے کہ ہمارے پاس صرف ایک روپیہ ہے اور اتنی دور ہی جایا جائے کہ واپسی بھی 80