قسمت کے ثمار — Page 78
خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کے فوائد و ثمرات بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: ” ہماری جماعت کے لوگوں کو اپنے اندر روحانی دروازے اور کھڑکیاں کھولنی چاہئیں تا ان کے ظاہر کے ساتھ باطن مل جائے اور جب یہ حالت پیدا ہو جائے تو ایسا انسان ہر چیز پر غالب آجاتا ہے اور کہیں کا کہیں جا پہنچتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کا کفیل ہو جاتا ہے اور یہی وہ اصل روحانی مقام ہے جس کیلئے ہر مومن کو کوشش کرنی چاہئے اور جب تک یہ حالت پیدا نہ ہو ایمان کامل نہیں ہوتا۔ہمیں اپنے آپ کو احمدیت کا عمدہ پھل بنانا چاہئے۔“ (الفضل 17 جون 1946ء) جماعت کی روحانی ترقی کیلئے محبت الہی کے حصول کی طرف نہایت دردمندی سے توجہ دلاتے ہوئے آپ بینی نہ فرماتے ہیں: " مجھے تمہاری حالتوں کو دیکھ کر جنون کی سی حالت ہو جاتی ہے۔ایک چھوٹا بچہ جنگل میں اپنی ماں سے جدا نہیں ہوتا۔میں بھی تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ اس خدا سے جو ماں سے بھی زیادہ محبت کرنے والا ہے تم جدا نہ ہو۔میں نے آدھی دنیا کا سفر کیا ہے اور پھر دیکھا ہے کہ ہر جگہ تمہاری مخالفت ہو رہی ہے۔نہ کسی ملک میں تمہاری جانیں محفوظ ہیں نہ تمہارے مال محفوظ ہیں۔کوئی چیز تمہاری حفاظت اور پناہ کا موجب نہیں ہوسکتی۔صرف ایک ہی دروازہ ہے جہاں تم کو پناہ مل سکتی ہے وہ خدا تعالیٰ کی گود ہے جو ماں باپ سے بھی زیادہ حفاظت کی جگہ ہے۔میں اپنے جسم کو طاقتوں سے خالی پاتا ہوں لیکن میں جانتا ہوں کہ اگر تم میری اس نصیحت کو مانو گے تو ہر ایک زمانہ میں اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے گا۔لڑائیوں، جھگڑوں کو چھوڑ دو۔اپنے معاملات کو درست کرو۔دنیا کی کسی چیز کو اپنا خدا نہ بناؤ۔آج دنیا میں کسی جگہ بھی حقیقی پرستش خدا تعالیٰ کی 78