قسمت کے ثمار — Page 35
آرام کی خاطر خود تکلیف اٹھائیں گے کیا ہی اچھا ہو کہ اللہ تعالی غیب سے چار پائی مہیا فرما دے۔میں ابھی یہ سوچ ہی رہی تھی کہ کسی نے باہر سے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا کہ مجھے پتہ چلا تھا کہ آپکے ہاں مہمان آئے ہیں آپ کو چار پائی کی ضرورت ہوگی یہ چار پائی لے لیں۔اس غیبی تائید کا ذریعہ بننے والے فرشتہ سیرت بزرگ مکرم مرزا محمد اور میں صاحب سابق مربی انڈونیشیا اور مرزا محمد اکرم صاحب کے والد محترم مرزا محمد اسماعیل صاحب تھے ) جیسا کہ ذکر آچکا ہے 35 سال کی عمر میں اماں جی پاکستان آگئیں میرے والدین جو ایک دوسرے کو دیکھ کر جیتے تھے مسابقت فی الخیرات کے جذبہ سے زندگی حاصل کرنے لگے اگر اماں جی میں ایمان و توکل اور سادگی و صبر کی عادت نہ ہوتی تو ابا جی درویشی کی سعادت ہرگز نباہ نہ پاتے اماں جی نے نہ صرف اکیلے رہنے اور بچوں کی ساری ذمہ داریوں کی بااحسن ادائیگی کا چیلنج قبول کیا بلکہ ابا جان کا حوصلہ بڑھاتی رہیں اور کبھی پریشانی طعن و تشنیع اور کم حوصلگی کا مظاہرہ نہ کیا۔قادیان میں قیام کے ایام میں ابا جان ہر سال ایک مہینہ وقف عارضی پر جماعتی انتظام کے تحت جاتے تھے ابا جان کے لئے یہ نیکی بھی اماں جان کے تعاون کے بغیر ممکن نہ ہوتی اور اسی جذبہ نے درویشی کی زیادہ بڑی نیکی کی توفیق عطا فرمائی۔اماں جی نے بڑے سخت وقت دیکھے مگر بڑے وقار کے ساتھ ان سے عہدہ برآ ہوئیں، ایک وقت ایسا بھی آیا کہ میری ایک بہن کی بیماری شدت اختیار کر گئی جب ان سے پوچھا گیا کہ اسے دوائی کیوں نہیں دی ، ہسپتال سے دوائی دلانے میں صرف دو پیسے کی پرچی بنوانی پڑتی ہے تو پتہ چلا کہ بچی کے علاج کے لئے مامتادو پیسے بھی مہیا نہیں کر پائی۔ایسے اور اس جیسے اور واقعات میں ہم نے ہی نہیں ہمارے سب جاننے والوں نے دیکھا کہ آپ نے بڑی خندہ پیشانی سے یہ وقت گزارا۔وقار اور سفید پوشی پر کبھی کوئی داغ نہ لگنے دیا مگر ایک 35