قسمت کے ثمار — Page 36
وقت ایسا آیا کہ ہم سب نے انہیں سخت متفکر و پریشان دیکھا اور ایسا اس وقت ہوا جب انہیں ابا جان کی شدید بیماری کی اطلاع ملی۔سب بچوں کو تاکید کی کہ ابا جان کو زیادہ با قاعدگی سے خط لکھیں بزرگوں کے پاس جا کر دعا کی درخواست کرتیں قادیان سے مسلسل رابطہ رکھا خود وہاں جا کر تیمارداری کا فرض ادا کرنے کی کوشش کی غرضیکہ ہر انسانی کوشش کی میرا یقین ہے کہ وہ اپنے خاوند کے لئے ہی اتنی پریشان و بے قرار نہ تھیں کیونکہ اسے وہ عملاً جوانی کی عمر میں ہی خدا تعالی کی خاطر چھوڑ آئی تھیں یہ پریشانی و فکر ایک درویش خاوند کو ایک درویش بیوی کا نذرانہ محبت و عقیدت تھا۔1976ء میں اپنی شادی شدہ زندگی کا نصف سے زیادہ عرصہ اپنے خاوند سے الگ بہت بڑی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے بڑے ہی سیلقہ ، وقار، متانت وعزت سے گزار کر بڑی مختصر بیماری کے بعد با مراد و کامیاب، خوش خوش خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہو گئیں۔اے خدا بر تربت او ابر رحمت ہابیار خاکسار اس وقت کینیا میں تھا۔اپنی پیاری ماں کے آخری دیدار سے محروم رہا۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ اور بزرگانِ جماعت نے تعزیت فرمائی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے بزرگوں کی نیکیوں کو قائم رکھنے کی تو فیق مرحمت فرمادے اور ان سے بخشش فضل کا سلوک فرمادے۔آمین اللهم آمین۔تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں میاں عبدالرحیم صاحب درویش کا نمبر 787۔(ص 61) اور آمنہ بیگم صاحبہ کا نمبر 722 ہے۔(ص37) ہے 00 36