قسمت کے ثمار — Page 319
یہ سادہ فقرہ پڑھ کر میں ان کی خوشی کا اندازہ کرنے لگا اور عالم تصور میں حضرت مسیح پاک علیہ السلام کی اس چھوٹی سی معمولی سی کچے پکے مکانوں اور ٹیڑھی میڑھی گلیوں والی بستی میں پہنچ گیا جسے دنیا قادیان کے نام سے جانتی ہے۔یہ بستی جس سے انتہائی اخلاص اور پیار کی یادیں وابستہ ہیں۔اس بستی کے گلی کوچوں کی مرمت کے رضا کارانہ کام میں حضرت مصلح موعود یایشہ کو اپنے کندھوں پر مٹی ڈھونے کا نظارہ ابھی تک ذہن میں اس طرح تازہ ہے جیسے اس وقت بھی آنکھوں کے سامنے ہو۔یہ بستی جس میں حضرت میر محمد اسماعیل صاحب بھی اٹھ جیسا صوفی منش درویش رہتا تھا۔جہاں حضرت مولانا شیر علی علیہ جیسا فرشتہ صفت انسان دست با کار اور دل بایار کی مکمل تصویر بستا تھا۔جہاں حضرت میر محمد اسحاق ہی جیسا عاشق رسول، محدث و مفسر رہتا تھا، وہ بستی جس میں علم معقول و منقول کا پہاڑ حضرت مولوی سرور شاہ رہتا تھا۔وہ بستی جس میں دعا اور ذکر حبیب کا متوالا حضرت مفتی محمد صادق دھونی رمائے ہوئے تھا۔ہاں وہی بستی جس میں کتنے ہی غریب طبع درویش ابو ہریره بینی شوند صفت رہتے تھے جن کا اوڑھنا بچھونا عبادت ، دعا اور تبلیغ تھی۔یہ فہرست تو بہت لمبی ہو جائے گی۔مختصر طور پر اس بستی کا تعارف اس طرح بھی کرایا جاسکتا ہے کہ جہاں مسیح پاک علیہ السلام کی برکت سے منتخب روزگار افراد ہندوستان کے ہر کونے بلکہ بیرون ہندوستان سے بھی آکر جمع ہو گئے تھے۔مگر وہ سب ایک دوسرے کئے ”بھائی جی“ تھے۔وہاں کوئی غیر نہیں تھا۔ہر بزرگ بابا جی یا میاں جی تھا۔جہاں ہر خاتون مجسم شرم و حیا اور زہد و انتقا ماسی جی یا خالہ جی تھی۔وہاں کوئی اور نچ نچ نہیں تھی وہاں عزت کا معیار علم اور تقویٰ تھا۔جہاں السلام علیکم کی گونج ہوتی تھی۔جہاں تلاوت قرآن کی آواز ہر گھر سے آتی تھی۔یہ مختصر تعارف بھی مفصل ہوتا جارہا ہے۔ایسے حالات میں ایک اجنبی اور نئی جگہ دو احمدی بھائیوں کی باہم اچانک ملاقات کس قدر خوشی کا باعث ہوتی ہوگی۔اس کے لئے ایک واقعہ پیش خدمت ہے۔ضلع جہلم میں ایک مشہور قصبہ دوالمیال کے نام سے مشہور ہے۔اس کی شہرت کی وجہ وطن عزیز کی فوج کے جیالے ہیں۔ہر گھر سے نوجوان 319