قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 320 of 365

قسمت کے ثمار — Page 320

بھرتی ہوکر بہادری اور جانبازی کی اعلی مثالیں قائم کرنے والے اور بلند ترین فوجی اعزازات حاصل کرنے والے۔اس دور دراز علاقہ میں احمدیت حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے زمانہ میں پہنچ چکی تھی اور کسی صاحب دل احمدی نے پہاڑ کی بلندی پر بہت ہی موزوں جگہ پر اچھی فراخ اور وسیع مسجد تعمیر کروائی ہوئی تھی۔اس مسجد میں مینارہ مسیح قادیان سے ملتا جلتا کسی قدر چھوٹا ایک مینار بھی ہے اور غالباً اسی وجہ سے علاقہ میں یہ قصبہ قادیان ثانی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔اس مسجد میں بیٹھ کر ہمارے بزرگ حضرت قاضی عبد الرحمن صاحب دراز قد، صحت مند، فر به جسم مسکرا تا ہوا چہرہ، نورانی داڑھی مخلص اور فدائی نے خاکسار کو اپنا ایک پرانا واقعہ سنایا۔انہیں کی زبانی سنئے : ” جنگ عظیم میں جب ہمیں برما بھجوانے کیلئے ایک خستہ حال مال بردار قسم کے جہاز میں سوار کیا گیا۔میں نے جہاز میں جا کر دیکھا کہ مسافر تو بہت زیادہ ہیں مگر نہ تو کوئی انتظام ہے اور نہ ہی ضروری سہولتیں میسر ہیں اور اس سے بڑھ کر مجھے یہ خیال ستانے لگا کہ میں غیر ملک میں جارہا ہوں۔میرے ساتھ کوئی بھی احمدی نہ ہوگا گویا با جماعت نماز بھی میسر نہ ہوگی۔درس قرآن و حدیث سننے کو نہ ملے گا۔ذکر حبیب اور ملفوظات سے بھی محروم رہوں گا۔ان خیالات نے اتنا غلبہ کیا کہ میں نے جہاز کے ایک کونے میں جا کر نماز شروع کر دی۔نماز میں خوب رقت طاری ہوئی اور میں نے روروکر دعا کی کہ اے خدا مجھے اکیلا نہ رہنے دینا۔دعا کر کے دل میں سکون سا پیدا ہوا۔کمرے سے باہر نکلا۔ہجوم کا اس نظر سے جائزہ لیا کہ ان میں جو معقول صورت شریف آدمی نظر آئے اس سے دوستی کی جائے اسے تبلیغ کی جائے اور اس طرح جماعت سے محرومی کا ازالہ کیا جائے۔کچھ دیر جائزہ لینے کے بعد میری نظر نے ایک صاحب کو منتخب کر لیا۔میں ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا کچھ دیر ادھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں اور پھر میں نے گفتگوکو مذہبی اور تبلیغی رنگ دے دیا۔مجھے خوشی ہو رہی تھی کہ وہ صاحب میری باتیں پوری توجہ اور دلچسپی سے سن رہے ہیں۔کوئی گھنٹہ بھر 320