قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 285 of 365

قسمت کے ثمار — Page 285

” ہمارے ملک کا امن ایک عرصہ سے اس طرح برباد ہو رہا ہے کہ میں جب بھی اس پر غور کرتا ہوں مجھے اپنے ملک کا نہایت ہی تاریک مستقبل نظر آتا ہے۔ایک طرف میں کانگریس کو دیکھتا ہوں کہ اس کے اصول اتنے خطرناک اور فساد پیدا کرنے والے ہیں کہ اگر ہم انہیں مان لیں تو بجائے دنیا میں امن قائم ہونے کے فتنہ وفساد پھیل جائے۔دوسری طرف میں ان لوگوں کو دیکھتا ہوں جو گورنمنٹ کے خیر خواہ کہلاتے ہیں کہ وہ حد درجہ کے لالچی ، دنیا دار، خود غرض اور قوم فروش ہیں۔۔۔۔ہمارا مقصد بلند ہونا چاہئے اور ہمارا کام یہ ہونا چاہئے کہ امن شکن اصولوں کا مقابلہ کریں اور دوسری طرف گورنمنٹ کے خوشامدیوں سے شدید نفرت رکھیں۔“ (الفضل 7 جولائی 1932 ء) اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے کہ اطاعت اور فرماں برداری کا ہمارا طریق کسی لالچ اور دنیوی مفاد کے لئے نہیں ہے۔آپ فرماتے ہیں: جن لوگوں نے ذاتی اغراض کے لئے ان سے تعاون کیا (انگریزوں سے ) ان سے تو وہ کہہ سکتے ہیں کہ تمہیں ہم نے اس کا معاوضہ ادا کر دیا۔کسی کو خاں صاحب بناد یا کسی کو خان بہادر بنادیا، کسی کو مربعے دے دیئے۔مگر دنیا کا کوئی انگریز ایسا ہے جس کے اندر شرافت ہو اور وہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ کہہ سکے کہ تمہیں یا تمہاری جماعت کو ہم نے فلاں فائدہ پہنچایا ہے۔اور کوئی دنیا میں ایسا انگریز ہے جس کے اندر شرافت ہو اور وہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ سکے کہ تمہاری جماعت سے ہمیں فائدہ نہیں پہنچا۔۔۔۔میں دعوئی سے کہتا ہوں کہ اس عرصہ میں ہم نے حکومت سے کبھی ایک پیسہ کا فائدہ بھی نہیں اٹھایا۔نہ اٹھانے کیلئے تیار تھے۔اور نہ اٹھانے کیلئے تیار ہوں گے۔(الفضل 11 اگست 1942 ء ) اس اہم امر کے متعلق مزید روشنی ڈالتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: 285