قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 256 of 365

قسمت کے ثمار — Page 256

گئی نہ کہ ارتداد کی۔قرآن مجید کے غیر مبدل ، منصفانہ اصولوں کے مطابق ہر شخص اپنے عقیدہ کے معاملہ میں پوری طرح آزاد ہے۔یادر ہے کہ سرزمین کا بل میں مذہبی تنگ نظری اور ایسے ظالمانہ اقدامات کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود عالی سلام کے زمانہ میں دو احمد یوں حضرت مولوی عبد الرحمن خان صاحب اور حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کو محض اس جرم میں کہ انہوں نے اسلام کی تعلیم اور آنحضرت کے ارشادات کی روشنی میں مسیح وقت کو مان لیا تھا شہید کر دیا گیا۔اس ظالمانہ کارروائی کی رض تفصیل حضرت مسیح پاک نے اپنی تصنیف ” تذکرۃ الشہادتین میں درج فرمائی ہے۔1924ء میں حضرت مولوی نعمت اللہ صاحب بن یلدہ کو بھی محض احمدی ہونے کے جرم میں نہایت بہیمانہ طریق پر شہید کر دیا گیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی پایا۔اس وقت لندن میں تشریف فرما تھے۔حضور نے نہایت دردمند دل کے ساتھ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے حکومت افغانستان کے ظلم کی طرف متوجہ فرمایا اور دنیا کو بتایا کہ اسلام میں محض ارتداد کی کوئی سزا نہیں ہے اور ایسی خلاف شرع اور خلاف انصاف حرکات اسلام کو بدنام کرنے والی ہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ افغان ایک غیور اور دینی قدروں کی حفاظت کرنے والی قوم ہے۔اگر ان کے رہنما اور نام نہاد علماء ان کی غلط رہنمائی نہ کرتے تو وہ دنیا میں ایک معزز اور ترقی یافتہ قوم کے طور پر تسلیم کی جاتی۔مگر تنگ نظر ملاؤں نے اس قوم کی غلط رہنمائی کر کے انہیں اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ آج وہ دنیا بھر میں نشانہ تضحیک بنی ہوئی ہے۔اسلامی قوانین تو ایسے واضح ، منصفانہ اور سادہ ہیں کہ ان پر عمل کرنا تو دینی و دنیوی ترقیات کی ضمانت ہے۔مغرب میں مذکورہ بالا خبر کا شدید رد عمل ہوا ہے۔صدر بش اور ان کی انتظامیہ کابل حکومت پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔بعض دوسری مغربی حکومتیں بھی افغانستان کی مدد بند کرنے کی جھمکی دے چکی ہیں۔دوسری طرف افغان حکومت کوئی درمیانی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہی 256