قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 206 of 365

قسمت کے ثمار — Page 206

کے فوائد تو حاصل کر ہی لے گا مگر اس سے کہیں بڑا اور زیادہ فائدہ اسے اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کی خاطر جہاد میں شمولیت کا حاصل ہو گیا۔سیر و سیاحت بھی اپنی جگہ مفید ہے اور قرآن مجید نے مومنوں کو اس کی رغبت دلائی ہے مگر اس میں بھی یہی چیز مذنظر ہے کہ انسان کھلی آنکھوں سے سفر کرے اور گزشتہ اقوام کے حالات و واقعات سے نصیحت و عبرت حاصل کرے۔گویا قرآنی حکم اور مذکورہ ارشاد نبوی میں بنیادی ہدایت یہی ہے کہ انسان ذاتی اغراض سے بلند ہو کر اجتماعی اور قومی مفاد کو ذہن میں رکھے اور اپنے ہر کام کو خواہ بظاہر وہ کام ذاتی اور دنیوی ہو روحانی چاشنی سے مزین کرے۔جہاد کے صحیح معنوں کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس زمانہ میں رہنمائی فرمائی ہے ورنہ یہ لفظ اور اس کا مفہوم تو اسلام کی خوبصورت تعلیم پر ایک بہت ہی بدنما دھبہ کی صورت اختیار کر گیا تھا۔نہج اعوج کے زمانہ میں یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے ہزار سالہ گمراہی و تاریکی کے زمانہ میں جہاد کی بابرکت اصطلاح لوٹ مار اور دہشت گردی کے لئے استعمال ہونے لگی۔حالانکہ جہاد تو اسلامی تعلیمات و عقائد میں ایک ایسا خوبصورت نگینہ ہے کہ جو اپنی چکا چوند سے دنیا کی آنکھوں کو خیرہ کر دیتا ہے۔یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایسی خوبصورت تعلیم ہے جسے فخر کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔جہاد تو ایک ایسے فرض کا نام ہے جس کی ضرورت و اثرات سے انسان کسی وقت بھی غافل نہیں ہوسکتا۔کیونکہ تزکیہ نفس کا کام تو ہمیشہ جاری رہنے والا اور کبھی ختم نہ ہونے والا کام ہے اور حضور صلی یا ایم کے ارشاد کے مطابق یہی جہادا کبر ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ میں ایسی متعدد با برکت تحریکیں جاری ہیں جن میں شامل ہو کر ہم تبلیغ واشاعت اسلام کے جہاد۔جہاد کبیر۔میں شامل ہونے کی سعادت حاصل کر کے دونوں جہان کی برکات سے مالا مال ہو سکتے ہیں۔مثلاً وقف عارضی کی تحریک ہے۔اس تحریک میں شامل ہونے والے دو سے چھ ہفتے تک وقف کر کے منتظمین کی ہدایت کے مطابق کسی جماعت میں یہ وقت گزارتے اور وہاں بچوں اور بڑوں کو قرآن مجید پڑھانے ، درس دینے اور ذکر الہی وعبادات 206