قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 182 of 365

قسمت کے ثمار — Page 182

راستہ کا اسی قدر خیال رکھتا ہے کہ یہ میری منزل تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔وہ لوگ جو دنیاوی زندگی اور دنیوی عیش و عشرت کو اپنا مقصود بنا لیتے ہیں ہو سکتا ہے کہ وہ دنیاوی اموال اور آسائش کے اسباب تو جمع کر لیں مگر سکون قلب و اطمینان اور ایمان کی دولت سے محروم ہو جائیں۔دنیا طلبی کی کوئی حد باقی نہیں رہتی اور عدم اطمینان و پریشانی کی وجہ سے قرآنی محاورہ کے مطابق انسان مخبوط الحواس و مجنون ہو جاتا ہے۔ایسے لوگوں کے اموال سے بالعموم یہ لوگ خود بھی لطف اندوز نہیں ہو سکتے بلکہ دوسرے لوگ ہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔وہ خود تو آلهُكُمُ التَّكَاثُرُ (التکاثر: 2) کی تفسیر و تصویر بن کر محرومی و نا کامی کی عبرتناک مثال بن جاتے ہیں۔اس کے مقابل وہ لوگ جو دنیا سے بے رغبتی اور زہد کا طریق اختیار کرتے ہیں وہ سکون واطمینان اور قناعت و فراغت سے مالا مال ہو کر قرآنی اصطلاح کے مطابق فلاح ونجاح سے فیضیاب ہوتے ہیں اور دنیا ان کے پیچھے پیچھے بھاگتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے " الْحَيَانُ خَيْرٌ كُلُّه حیا اور شرم کا طریق تو سراسر " خیر و برکت کا طریق ہے۔بے حیائی اور بے شرمی مادر پدر آزاد کر دیتی ہے جس کے نتیجہ میں حرام و حلال کا امتیاز ختم ہو جاتا ہے۔بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ شرف انسانیت تو حیا سے ہی قائم و باقی رہتا ہے اور حیا کے زیور سے عاری ہو جانے والا شرف انسانیت سے ہی دستکش ہو جاتا ہے۔اس لئے کہا گیا ہے کہ بے حیا باش و ہر چہ خواہی کن بے جا خواہشات اور بڑی بڑی امیدیں اور ارادے بھی دنیا کی محبت میں حد سے بڑھے ہوئے انہماک کی طرح انسان کو حد اعتدال اور صراط مستقیم سے دور لے جانے کا باعث بن جاتے ہیں۔ایسا شخص عملی زندگی سے کٹ کر فرضی اور وہمی کیفیت میں ذمہ داریوں کی ادائیگی کی بجائے شیخ چلی کے افسانوی کردار کو ا پنا لیتا ہے۔بلند مقصد اور عالی ہمتی اور بے جا بڑی بڑی خواہشات میں بہت بڑا فرق ہے۔عالی ہمت 182