قسمت کے ثمار — Page 128
حضور علیہ السلام کے اسوہ حسنہ کی پیروی کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی رضا اور محبت سے سرفراز ہوں۔آنحضرت سلال السالم کا ارشاد ہے : نَضَرَ اللَّهُ امْرَأَ سَمِعَ مِنَّا شَيْئًا فَبَلَغَهُ كَمَا سَمِعَ یعنی اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو خوش رکھے جو ہماری باتوں کوسنے اور انہیں اسی طرح آگے پہنچا دے۔اس ارشاد کی تعمیل میں صحابہ بنی عنہ نے ہزاروں احادیث اس احتیاط سے یادرکھیں اور بیان کیں کہ اس کی اور کوئی مثال نہیں مل سکتی۔صحابہ کرام پن کی بیان کی ہوئی زبانی روایات میں آنحضور مالی ایم کے ان خطوط کا ذکر آتا ہے جو آنحضور صلی ہم نے مختلف بادشاہوں کے نام لکھے تھے۔کئی صدیوں کے بعد جب مذکورہ خطوط دستیاب ہوئے تو دنیا یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ زبانی روایات اور دریافت شدہ دستاویزات پوری طرح ایک دوسرے کے مطابق ہیں۔بعض راویوں کے متعلق تاریخی طور پر ثابت ہے کہ وہ اس زمانہ میں جب سفر جان جوکھوں کا کام تھا دور دراز کے سفر محض اس لئے کرتے کہ کسی ایک حدیث کی تصحیح، توثیق کروائی جا سکے۔حضرت امام بخاریؒ کی ثلاثیات مشہور ہیں یعنی امام بخاری کی ایسی روایات جو حضور سایلم تک تین واسطوں سے پہنچیں۔اس مشکل تحقیقی کام کے لئے حضرت امام دایملی نے زندگی بھر محنت کی اور کوشش کی کہ حدیث کے درمیانی واسطے اور راوی کم ہوں۔حضور سیل لی ایم کی سرسبزی و شادابی کی دعا سے صحابہ کرام عالی عنہ نے کمال احتیاط سے روایت کرتے ہوئے ایسی برکتیں حاصل کیں کہ وہ انتہائی پستی ونکہت سے آسمان کی رفعتوں میں پرواز کرنے والے روحانی پرندے ہی نہیں، دنیا کے امام ورہنما بن گئے۔اس دعا اور خوش خبری سے آج بھی علم حدیث کی خدمت سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔جس طرح پہلے لوگوں نے کیا حضور ایلیا ایم کے ارشادات کو سن کر دوسروں تک پہنچانے کا سلسلہ درس حدیث اور تعلیم حدیث کی صورت میں برابر جاری ہے۔درس حدیث کے سلسلہ میں جماعت میں حضرت میر محمد اسحاق صاحب بنالی العنہ کا نام ایک بلند مقام رکھتا ہے۔حضرت میر صاحب جیسے ہی درس 128