قسمت کے ثمار — Page 55
سامانوں میں جو ترقی ہوئی ہے اس کا تصور بھی لرزہ بر اندام کر دینے کیلئے کافی ہے۔موجودہ زمانے کے ہتھیاروں کی تباہی تو اتنی خوفناک ہے کہ اس کا پوری طرح اندازہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔جنگ عظیم دوم کا خاتمہ امریکہ کے جاپان پر ایٹمی بم گرانے سے ہوا تھا۔اس تباہی پر اب نصف صدی سے زیادہ گزرچکی ہے مگر جو خوفناک بر بادی اس وقت ہوئی تھی ، آج تک اس کے نقصانات اور بداثرات برابر چل رہے ہیں۔اور جدید تحقیقات کے نتیجہ میں اس مہلک بم کے تباہ کن اثرات میں مزید اضافے بھی ہورہے ہیں۔ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ سب سے زیادہ ترقی یافتہ ، مہذب اور ماڈرن وہی ملک یا طاقت سمجھی جاتی ہے جس کے پاس ایسے تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تعداد زیادہ ہو۔بظاہر امن وسکون قائم کرنے والی طاقتیں اور حکومتیں اس کوشش میں تو ضرور لگی ہوئی ہیں کہ ایسے ہتھیار زیادہ عام نہ ہوں اور ان کو کم کر دیا جائے مگر اس کوشش میں بھی یہ بات نمایاں ہے کہ چھوٹی اور کم ترقی یافتہ اقوام کے پاس اگر ایسا کوئی ہتھیار ہو تو اسے زیادہ تباہ کن سمجھا جاتا ہے۔مگر ویسے ہی بلکہ اس سے کہیں زیادہ مہلک ہتھیار اگر بڑی اقوام کے پاس ہو تو اسے ترقی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور اس کے متعلق یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کے استعمال سے دنیا میں ہلاکت و تبا ہی کی بجائے علمی ترقی رواداری اور معاملہ نہی پھیلے گی۔بر این عقل و دانش باید گریست امن وسکون کے حصول میں بڑی طاقتوں کی ناکامی یہی بتاتی ہے کہ اس سلسلہ میں ہونے والی کوششیں اخلاص و نیک نیتی سے نہیں کی گئیں اور ان میں بے دلی کے علاوہ بے انصافی سے بھی کام لیا گیا ہے اور جب تک یہ صورت حال تبدیل نہ ہو اس وقت تک امن و سکون کا حصول کسی طرح بھی ممکن نہیں ہو سکتا۔حقیقت یہ ہے کہ حصول امن کی کوشش کرنے والے یا اس بات کا دعویٰ کرنے والے کہ وہ دنیا میں امن وسکون کے قیام کی غرض سے کوشش کر رہے ہیں وہ خود بھی ابھی تک اس دولت سے محروم 55