قسمت کے ثمار — Page 56
ہیں کیونکہ ظاہری مال و دولت اور جاہ و چشم انسان کو قناعت اور خوشی کی دولت نہیں دے سکتے۔حضرت خلیفہ استع الاول مولانا نورالدین پایان نے اپنے درس قرآن میں قناعت اور سیر چشمی کا ایک ایسا ہی واقعہ بیان فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : ایک ضعیفہ جو اپنے بیٹے کے ساتھ اکیلی ہی رہتی تھی اس کی نیکی اور تقویٰ کا مجھ پر خاص اثر تھا اور میں اس کی خدمت کرنا چاہتا تھا۔مگر اس نے کبھی بھی کسی احتیاج کا اظہار نہ کیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ محترمہ میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں ؟۔اس خاتون نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ ہی رازق ہے، کھانے کومل جاتا ہے، ایک لحاف ہے جو ہم دونوں ماں بیٹا استعمال کرتے ہیں۔اگر رات کو مجھے یہ محسوس ہو کہ میرا بیٹا باہر کی طرف ہے تو اسے اندر کی طرف اپنے ساتھ لگا لیتی ہوں اور اس طرح بخوبی گزارہ ہو رہا ہے۔حضور بین اللہ فرماتے ہیں کہ : ” میرے اصرار پر اس خدا رسیدہ خاتون نے کہا کہ اگر آپ ضرور ہی کچھ کرنا چاہتے ہیں تو مجھے بڑے الفاظ والا قرآن مجید دلوادیں۔نظر کی کمزوری کی وجہ سے تلاوت کرتے ہوئے وقت ہوتی ہے۔“ امن وسکون کی یہ کیفیت قناعت و خدا رسیدگی سے ہی حاصل ہوسکتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: صدق سے میری طرف آؤ اسی میں خیر ہے ہیں درندے ہر طرف میں عافیت کا ہوں حصار 56 الفضل انٹرنیشنل 6 فروری2004