قسمت کے ثمار — Page 45
احمدیت کانور قرآنی ہدایات اور آنحضرت سلاا اینم کی پیش خبریوں کے مطابق اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا سلسلہ شروع ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آواز پر سعید روحوں نے لبیک کہتے ہوئے ایک ہاتھ پر جمع ہونا شروع کیا۔احیاء دین اور قیام شریعت کی بابرکت داغ بیل ڈالی گئی تو قدیم طریق کے مطابق مخالفانہ قوتیں بھی جوش اور غیظ و غضب میں بھر گئیں اور سچائی کی مخالفت کا ہر طریق اختیار کیا گیا۔یہ ایک لمبی داستان ہے تاہم ہمارے خوش قسمت بزرگوں نے امام مہدی علیہ السلام کو آنحضرت صلی یہی ان کا سلام پہنچایا مگر یہ کوئی آسان کام نہیں تھا انہیں سردمہری کے یخ بستہ پہاڑوں پر گھٹنوں کے بل چلنا پڑا کیونکہ ان کے ہر قدم پر روک کھڑی کر دی گئی تھی۔انہیں احمدیت کی خاطر اپنے ملکوں سے نکلنا پڑا، برادری سے خارج ہوئے ، بیویوں کو خاوندوں سے اور خاوندوں کو بیویوں سے الگ ہونا پڑا۔اولاد کی جدائی اور والدین سے علیحدگی کے صدمے برداشت کرنے پڑے، ملازمتوں سے الگ کیا گیا۔مقابلہ کے امتحانوں اور ترقی کے مواقع سے محروم ہونا پڑا۔سکولوں میں بچوں کو تضحیک و مذاق اور گالی گلوچ ہی نہیں مار پیٹ وذلت کا سلوک برداشت کرنا پڑا۔وراثت اور جائیدادوں سے محرومی کا دکھ برداشت کرنا پڑا۔قربانیوں کی یہ ایک لمبی فہرست ہے۔حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف شہید بی ایشن نے فدائیت کا جو نمونہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں 45