قسمت کے ثمار — Page 359
شکر ادا کرتا ہوں۔میں اس پر ایمان لاتا ہوں وہ اول اور ظاہر وباہر ہے۔میں اس سے ہدایت کا طلب گار ہوں جو ہادی و رہنما ہے۔میں اسی سے مدد مانگتا ہوں کہ وہ مدد کرنے پر قادر ہے۔میں اسی پر بھروسہ و توکل کرتا ہوں کہ وہی کافی و معین ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صال سلیم اللہ کے رسول اور بندے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے احکام کو جاری کرنے اور اتمام حجت وانزار کیلئے مبعوث فرمایا ہے۔اے اللہ کے بندو! میں تمہیں تقوی شعاری کی تاکید کرتا ہوں۔وہی ہے جس نے تمہیں مثالیں دے دے کر ( حق و حکمت ) کی سمجھ عطا فرمائی اور تمہارے لئے اندازے مقرر فرمائے ہیں۔تمہارے عیوب کو ڈھانکنے کیلئے کئی قسم کے لباس عطا فرمائے ہیں اور تمہیں رزق فراواں عطا فرمایا ہے۔اس نے تمہارا پوری طرح احاطہ کر رکھا ہے اور تمہارے لئے انعام و بدلہ بھی مقرر فرمایا ہے۔۔۔اس مقام عبرت و نصیحت میں اس نے تمہیں مقررہ وقت کے لئے بھجوایا ہے اور اس کے متعلق تمہارا محاسبہ بھی کیا جائے گا۔یہ دنیا گدلی اور کیچڑ سے لت پت ہے جو ظاہر تو بہت خوشنما مگر در حقیقت تباہ کن ہے۔جو محو ہو جانے والا دھوکہ اور ختم ہونے والی روشنی اور نا قابل اعتمادسایہ اور ایک طرف کو جھکا ہوا ستون ہے۔جب کوئی اس سے بچنے کی بجائے اس سے دل لگا لیتا اور اس پر مطمئن ہو جاتا ہے تو یہ اسے زمین پر الٹے منہ پھینک دیتی اور اپنے جال میں پھنسا لیتی ہے اسے اپنے تیروں کا نشانہ بنا کر اس کی گردن میں موت کا پھندا ڈال کر تنگ و تاریک قبر اور خوفناک منزل تک لے جاتی ہے جہاں وہ اپنے اصل ٹھکانے کو پالیتا ہے۔“ آپ کے اقوال دانش بہت مشہور ہیں۔ان میں سے بعض اقوال درج ذیل ہیں: بخل باعث ننگ و عار ہو جاتا ہے۔بزدلی سے نقائص و عیوب پیدا ہوتے ہیں۔غربت ذہین و 359