قسمت کے ثمار — Page 33
ڈھیر دیکھ کر چوزہ دبانے کے لئے اسے کھودا تو وہاں پندرہ روپے کی وہی رقم پڑی ہوئی تھی۔کسی بچے نے وہاں محفوظ کی تھی یا کیا صورت ہوئی مگر خدا نے اپنی ایک عاجز بندی کی دعا اس طرح منظور فرمائی اور اس کی تکلیف دور کرنے کا غیب سے سامان فرمایا۔مذکورہ حالات میں پانچ بیٹیوں کی شادی ایک بہت ہی کٹھن اور مشکل مرحلہ تھا۔خدا تعالی کے فضل سے دعاؤں کی برکت سے بڑے وقار اور عمدگی سے اپنے _3 اپنے وقت میں سب کی شادیاں ہوئیں اور خدا تعالی کے فضل سے اپنے اپنے گھر میں خوش و خرم زندگی گزار رہی ہیں۔سب سے چھوٹی بہن کی شادی کے سلسلہ میں ایک بات یاد آرہی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ سب شادیاں کس طرح خدا تعالی کے فضل سے کامیاب ہوئیں۔چھوٹے بھائی میٹرک پاس کرنے کے بعد کام کی تلاش میں حیدرآباد چلے گئے۔اب گھر میں اماں جی اور سب سے چھوٹی بہن ہی تھیں، اس حالت میں انہیں اس کے جلد رشتہ کرنے کی طرف توجہ پیدا ہوئی بتا یا کرتی تھیں کہ ایک دن عصر کی نماز میں دعا کر رہی تھیں کہ اے خدا تو نے ہر چیز کا جوڑا بنایا ہے۔میری اس بیٹی کا جوڑا بھی تو نے ضرور بنایا ہوگا مگر مجھے تو اس کا کوئی علم نہیں ہے۔اے خدا تو اپنے فضل سے اسے میرے گھر بھجواد۔۔۔ابھی عبادت ختم نہیں ہوئی تھی کہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹا یا چھوٹی بہن نے دروازہ کھول کر مہمانوں کو بٹھایا۔امی جان عبادت سے فارغ ہو کر مہمانوں کے پاس گئیں تو معلوم ہوا کہ وہ رشتہ کی تلاش میں آئی ہیں اور یہ کہ انہیں کسی مرکزی عہدیدار نے غالباً استانی میمونہ صوفیہ محترمہ نے مشورہ پوچھنے پر بتایا کہ فلاں گھر میں چلی جاؤ۔درویش کی بیوی نے بچیوں کو گلے سے لگا کر ان کی کمائی کا لالچ نہیں کیا اور صحیح عمر میں بچیوں کے رشتے کر دیئے ہیں۔امی جان نے سمجھا کہ یہ خدا تعالی کا فضل اور 33