قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 336 of 365

قسمت کے ثمار — Page 336

پیشہ اختیار نہیں کیا گیا بلکہ جب کبھی قلب پر کیفیت ظاہر ہوتی تو اس کا اظہار کر دیا جاتا ہے اور پھر یہ خیال نہیں ہوتا کہ اس کو مکمل کیا جاوے۔چونکہ میں تکلف سے شعر نہیں کہتا۔ٹوٹے ہوئے دل کی صدا ہے۔پڑھو اور غور کرو۔خدا کرے یہ درد بھرے کلمات کسی سعید روح کیلئے مفید و با برکت ثابت ہوں۔“ حضرت صاحب نے عام شعراء کی کبھی پیروی و اقتد انہیں کی آپ کے خیالات اور (ص245) مضامین عارفانہ و عالمانہ ہیں۔آپ نے اردو ادب میں نئے محاوروں کا اضافہ فرما یا مثلاً کلام محمود میں آپ کا کلام ” ہے اک تری تصویر جو مٹتے نہیں ملتی کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔اس میں حضرت صاحب کی طرف سے مندرجہ ذیل نوٹ بھی درج ہے جس میں اردو ادب میں ایک نئے محاورہ کے اضافہ کے متعلق آپ فرماتے ہیں : ” اُردو میں عام طور پر مٹائے نہیں ملتی بولا جاتا ہے اور وہاں یہ مراد ہوتا ہے کہ انسان مٹانا چاہتا ہے مگر نشان نہیں منتا اس کے برخلاف ایک نقش ایسا ہوتا ہے کہ کوئی خود تو اسے مٹانا نہیں چاہتا لیکن مرور زمانہ سے وہ کمزور پڑ جاتا ہے چونکہ میں نے اسی مضمون کو لیا ہے اس لئے بجائے مٹائے نہیں ملتی کے ملتے نہیں ملتی استعمال کیا ہے۔جاہل ادیبوں کے نزدیک یہ بات ناجائز تصرف معلوم ہوتی ہے مگر واقفوں کے نزدیک مفید ا ضافہ“ ( الفضل 31 جولائی 1951 ) اس جگہ اردو شاعری پر حضرت صاحب کے ایک تبصرہ کا ذکر بھی باعث دلچسپی ہوگا آپ فرماتے ہیں: ہمیں اپنے تعلیمی نصاب کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔بے شک ایک پہلو یہ بھی 336