قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 335 of 365

قسمت کے ثمار — Page 335

آیت کا ترجمہ ہوتے ہیں یا کسی حدیث کا ترجمہ ہوتے ہیں یا کسی فلسفیانہ اعتراض کا جواب ہوتے ہیں لیکن لوگ عام طور پر اگر صرف وزن میں ترنم پایا جاتا ہے اور موسیقی پائی جاتی ہے تو سن کر ہاہا کر لیتے ہیں۔مجھے کئی دفعہ خیال آتا تھا کہ لوگ سمجھنے کی طرف کم توجہ کرتے ہیں۔اگر کوئی شخص اس طرف توجہ کرے تو شاید یہ زیادہ مفید ہو سکے۔۔۔۔در حقیقت اگر دیکھا جائے تو میرے اشعار میں سے ایک کافی حصہ بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ ایک چوتھائی یا ایک ثلث حصہ ایسا نکلے گا جو در حقیقت کلام الہبی کی تفسیر ہے لیکن ان میں بھی لفظ پھر مختصر ہی استعمال ہوئے ہیں۔ورنہ شعر نہیں بنتا۔شعر کے چند لفظوں میں ایک بڑے مضمون کو بیان کرنا آسان نہیں ہوتا یا اس طرح کئی تصوف کی باتیں ہیں جن 66 کو ایک چھوٹے سے نکتے میں حل کیا گیا ہے۔۔(الفضل 25 اکتوبر 1955ء) اس وضاحت کو سامنے رکھتے ہوئے غزل کے عام اور سادہ مفہوم ” عورتوں سے باتیں کرنا۔عورتوں کے حسن و جمال کی تعریف کرنا۔نظم کی ایک صنف جس میں عشق و محبت کا ذکر ہوتا ہے۔“ (فیروز اللغات ) کو دیکھیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کلا محمود' ک اس چیز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔" ہمارے پیارے امام حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی ” سوانح فضل عمر میں آپ کے منظوم کلام کے متعلق تحریر فرماتے ہیں: - ”حضرت صاحبزادہ صاحب کا عارفانہ منظوم کلام پہلی مرتبہ مئی 1913ء میں شائع ہوا۔پہلی نظم 1903 ء کی ہے جبکہ آپ شاد تخلص کرتے تھے۔شعر وسخن کے باب میں آپ کا مسلک کیا رہا ہے اس پر آپ خود ہی روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں۔” میں کسی نظم کو شاعری کے شوق میں نہیں کہتا بلکہ جب تک ایک خاص جوش پیدا نہ ہو نظم کہنا مکروہ سمجھتا ہوں۔اس لئے درد دل سے نکلا ہوا کلام سمجھنا چاہئے۔بعض نظم نامکمل صورت میں پیش کرنے سے میرا مقصد یہ ہے کہ تا کہ لوگ دیکھیں کہ شاعری کو بطور 335