قسمت کے ثمار — Page 334
اردو ادب کے لحاظ سے بھی آپ کا مقام بہت اونچا تھا۔آپ کی والدہ محترمہ خاص دہلی کی رہنے والی اور حضرت میر درد کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔اس لئے آپ کو اپنے والد محترم سے اسلام سے محبت والہانہ عشق اور لگاؤ اور جماعت کی تعلیم و تربیت کا جذبہ اور جوش بدرجہ اتم ملا ہی تھا اور زبان کے لحاظ سے اردو واقع میں (نہ کہ محاورہ کے مطابق ) آپ کی مادری زبان تھی۔کلام محمود کے نام سے آپ کا شعری مجموعہ بے شمار مرتبہ طبع ہوکر دنیا بھر میں شائع ہو چکا ہے۔عشق الہی سے بھر پور آپ کے اشعار آج بھی دلوں کو گرماتے اور روح کو بالیدگی بخشتے ہیں۔عربی اور فارسی میں بھی آپ نے اشعار کہے ہیں مگر زیادہ کلام اردوزبان میں ہی ہے۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ آپ کا اکثر کلام اردو شاعری کی معروف ومشہور صنف غزل میں ہے مگر غزل کا روایتی مضمون کہیں بھی نہیں ملے گا۔اصطلاحا تو آپ کی نظموں کو غزل کے نام سے موسوم کیا جا سکتا ہو گا مگر عملاً آپ کے کلام میں غزل والا انداز کہیں بھی نہیں ہے۔اور اس بات کا التزام نہیں کیا گیا کہ روایتی طور پر پانچ یا سات اشعار پر بات کو ختم کر دیا گیا ہو۔غزل کا ہر شعر اپنے مضمون میں مستقل اور الگ ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ شعرا کے ہاں کسی عنوان پر غزل کا کوئی تصور نہیں ہے بلکہ وہ اس امر کو غزل کی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جتنی اردو شاعری کی عمر ہے اتنی ہی لمبی غزل گو اور نظم گو شاعروں کی چپقلش اور نونک جھونک کی تاریخ ہے۔حضرت صاحب کی ساری شاعری مربوط با مقصد ہمت و ولولہ پیدا کرنے والی ہونے کی وجہ سے ایک مسلسل غزل تو کہلا سکتی ہے مگر معروف غزل بہر حال نہیں ہے۔اسی وجہ سے آپ کے کلام کا انتخاب پیش کرنا بہت مشکل امر ہے یہاں پر حاصل مشاعرہ “ اور ” حاصل غزل، قسم کی کوئی چیز نہیں ہے۔سادہ زبان میں نہایت عارفانہ کلام ہے۔حضرت صاحب نے اپنے کلام کے متعلق خود یہ وضاحت فرمائی ہے کہ :۔۔۔یوں میرے دل میں اکثر خیال آیا کرتا تھا کہ میرے اکثر شعر در حقیقت کسی 334