قسمت کے ثمار — Page 333
، سچے مومن ہیں اور اس دعوی پر قائم ہیں جو انہوں نے بیعت کے وقت کیا اور اس دعویٰ کے مطابق جس قربانی کا بھی ان سے مطالبہ کیا جائے گا اسے پورا کرنے کیلئے ہر وقت تیار رہیں گے۔“ ( الفضل 23اکتوبر 1934ء) 00 الفضل ربوہ 12 نومبر 1997ء) کلام محمود اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دعوت و اشاعت کا جو غیر معمولی جوش و ولولہ عطا کیا گیا تھا اس کے اظہار کیلئے آپ نے اپنی طبع موزوں سے خوب کام لیا۔اس زمانے میں برصغیر کی علمی زبانوں اردو اور فارسی کے علاوہ عربی زبان میں بھی تالیف تصنیف کے محیر العقول کارنامے سرانجام دیئے۔آپ نے اسی مقصد کیلئے ان تینوں زبانوں میں نہایت موثر و دلنشین نثر کے ساتھ ساتھ منظوم کلام بھی ارشاد فرمایا مگر آپ کی شاعری میں رہنما اصول یا مقصد وموٹو خود آپ کے اپنے الفاظ میں یہی رہا کہ کچھ شعر و شاعری سے اپنا نہیں تعلق اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یہی ہے آپ کی شاعری کا موضوع محبت الہی اور اسلام کی خوبیاں اور اشاعت و دعوت ہی رہا اسی وجہ سے جماعت کے کم و بیش تمام شعراء بھی ان مقاصد کو سامنے رکھ کر اپنی شعر گوئی کے میدان میں اپنے جو ہر دکھاتے رہے۔حضرت مصلح موعود بنا اور بھی کسی تصنع اور بناوٹ کے بغیر بے تکلف اشعار موزوں فرماتے تھے 333