قسمت کے ثمار — Page 322
اسے ڈیوٹی سے مستنی سمجھا جائے ورنہ بہانہ بنانے کی سزا دی جائے۔اس غرض کیلئے میں نے مطبوعہ فارم پُر کر کے اپنے دستخطوں کے بعد نمایاں طور پر AHMADI لکھ دیا اور اس سپاہی کو ایک دوسرے سپاہی کے ہمراہ ڈاکٹری معائنہ کیلئے بھجوا دیا۔ان کو بھیج کر میں پوری وردی پہن کر ڈاکٹر صاحب کے پاس جانے کیلئے تیار ہوکر بیٹھ گیا کیونکہ میرا خیال تھا کہ اگر ڈاکٹر صاحب احمدی ہیں تو باہم محبت کی وجہ سے اور اگر احمدی نہیں ہیں تو مخالفت کی وجہ سے بہر حال مجھے ضرور طلب کریں گے۔حضرت قاضی صاحب فرماتے تھے کہ میں یہی سوچ رہا تھا کہ وہی سپاہی بھاگتا ہوا بہت گھبراہٹ کے عالم میں آیا اور کہنے لگا کہ قاضی صاحب نہ معلوم آپ نے اس فارم میں کیا لکھ دیا تھا صاحب کو دیکھتے ہی غصہ آ گیا اور اس نے آپ کو فوری طلب کیا ہے۔میں نے مسکراتے ہوئے اسے کہا کہ کوئی بات نہیں میں تو پہلے ہی ڈاکٹر صاحب کی ملاقات کیلئے تیار بیٹھا ہوں۔جب میں ڈاکٹر صاحب کے پاس پہنچا تو وہ اپنے بنگلے میں آرام کر رہے تھے۔چار پائی پر مچھر دانی لگی ہوئی تھی وہاں لیٹے لیٹے بظاہر بڑے غصہ سے پوچھنے لگے کہ یہ فارم کس نے پر کیا تھا؟ اس فارم میں کس کے دستخط ہیں؟ وغیرہ میرے یہ بتانے پر کہ یہ اس خاکسار کا ہی کام ہے۔ڈاکٹر صاحب مچھر دانی کو ایک طرف کرتے ہوئے اٹھے اور مجھ سے معانقہ کر لیا۔یہ قابل فخر ڈاکٹر حضرت میجر حبیب اللہ شاہ (بقول حضرت مسیح پاک علیہ السلام جنتی خاندان کے ایک فرد ) تھے۔روزوں کے دن تھے۔ہماری نماز تراویح بھی ہونے لگی اور درس بھی باقاعدگی سے ہونے لگا۔خاکسار حضرت ذوالفقار علی خان گوہر مرحوم کے فقرہ پر ہی ان متفرق یادوں کو ختم کرتا ہے کہ اس غیر متوقع اچانک ملاقات پر حضرت قاضی صاحب اور حضرت شاہ صاحب کو جو خوشی حاصل ہوئی اس کا اندازہ ہر احمدی کر سکتا ہے۔“ 322