قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 303 of 365

قسمت کے ثمار — Page 303

کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا چہرہ ہمدردی سے بھرا ہوا تھا۔مجھ سے آپ نے دریافت کیا کہ یہ تکلیف آپ کو کب سے ہے میں تیرہ ماہ سے اس دکھ میں مبتلا تھا۔لوگ آرام کی نیند سویا کرتے تھے لیکن مجھے درد چین نہیں لینے دیتی تھی۔اس لئے میں مکان کے بالا خانہ پر ٹہلا کرتا تھا اور میرے اردگردسونے والے خواب راحت میں پڑے ہوتے تھے۔میں نے مہینوں راتیں روکر اور ٹہل کر کاٹی ہوئی تھیں۔حضرت صاحب کے ان ہمدردانہ و محبت آمیز کلمات نے چشم پر آب کر دیا۔شکل تو دیکھ چکا تھا اتنے بڑے انسان کا مجھ ناچیز کو آپ کے لفظ محبت آمیز و کمال ہمدردانہ لہجہ میں مخاطب کرنا ایک بجلی کا اثر رکھتا تھا۔میں اپنی بساط کو جانتا تھا۔میری حالت یہ تھی کہ محض ایک لڑکا میلے اور پرانے وضع کے کپڑے چھوٹے درجہ چھوٹی قوم کا آدمی میرے منہ سے لفظ نہ نکلا۔سوائے اس کے کہ آنسو جاری ہو گئے۔حضرت صاحب نے یہ دیکھ کر سوال نہ دھرایا۔مجھے کہا کہ: میں تمہارے لئے دعا کروں گا۔فکرمت کرو، انشاء اللہ اچھے ہو جاؤ گے“ مجھے اس وقت اطمینان ہو گیا کہ اب اچھا ہو جاؤں گا۔پھر میں حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں آیا تو صرف آپ نے ذرہ بھر خوراک جدوار کی میری لئے تجویز فرمائی اور اتنی مقدار مجھے کہا کہ پتھر پر گھس کر اس ناسور پر لگا دیا کروں۔تھوڑے ہی عرصہ میں مجھے افاقہ ہو گیا اور ایک مہینہ میں میں اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اچھا ہو گیا۔یہ پہلا واقعہ ہے کہ مجھے حضرت سے ملنے کا اتفاق ہوا۔اور میری خوش قسمتی مجھے بیمار کر کے قادیان لے آئی چنانچہ میں نے وطن کو خیر باد کہہ کر قادیان کی رہائش اختیار کر لی۔اس کے بعد میری شامت اعمال مجھ پر سوار ہوئی۔حضرت صاحب نے لکھا کہ جوشخص سچے دل اور پورے اخلاص کے ساتھ تقویٰ کی راہ پر قدم 303