قسمت کے ثمار — Page 302
عزت و توقیر ان کی خدمت اور انکساری کا ثمرہ تھی۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے اور ان کے درجات بلند کرے۔آمین۔(الفضل 17 مارچ 1983ء) مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مولوی صاحب رضی اللہ عنہ کی مندرجہ ذیل یادگار تحریر بھی اس جگہ درج کی جائے۔اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے بعض حسین پہلو اور حضرت مولوی صاحب بینی کی فدائیت و انکسار کی بہت پیاری جھلک پائی جاتی ہے۔آپ مبنی یہ نہ لکھتے ہیں: 1901ء میں سخت بیمار ہو گیا۔قریباً ایک سال سے زائد عرصہ تک مجھے ڈاکٹروں اور حکیموں کا علاج کرانا پڑا لیکن مجھے کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ان دنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ کر رہا تھا۔مجھے میرے مکرم و معظم و محسن بزرگ منشی تاج الدین صاحب پنشنرا کا ؤنٹنٹ نے قادیان آنے کا مشورہ دیا۔مجھے سٹیشن پر آکر گاڑی میں خود سوار کر کے گئے۔میں قادیان پہنچا اور پہلے پہل میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جمعہ کی نماز پڑھ کر مسجد سے نکلتے ہوئے دیکھا۔میری طبیعت نے یہ فیصلہ کرلیا کہ یہ منہ تو جھوٹے کا نہیں ہوسکتا۔بعد میں حضرت مولوی نور الدین صاحب بینی الھن کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی بیماری کا حال سنایا۔آپ نے میرا ناسور دیکھ کر حیرانگی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کا رُخ دل کی طرف ہو گیا ہے۔مجھے فرمایا کہ اس کیلئے دوا کی نسبت دعا کی ضرورت زیادہ ہے۔مجھے بتلایا کہ مسجد مبارک میں ایک خاص جگہ بیٹھنا ، میں خود تمہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملاؤں گا اور تمہارے متعلق دعا کیلئے عرض کروں گا۔میں اس دریچہ کے پاس بیٹھ گیا جہاں سے حضور مسجد کیلئے تشریف لایا کرتے تھے۔حضرت مولوی صاحب بڑھے اور مجھے پکڑ کر حضور کے سامنے کر دیا۔میرے مرض کے متعلق صرف اتنا کہا کہ خطرناک ہے۔میں نے دیکھا 302