قسمت کے ثمار — Page 29
میری والدہ مرحومه مکرمه آمن بیگم صاحبه ہماری والدہ کی ابتدائی تعلیم نہ ہونے کے برابر تھی۔اُن کی والدہ بہت کم سنی کے عالم میں وفات پا گئی تھیں۔اس لئے باوجود علم دوست باپ کی بیٹی ہونے کے ظاہری تعلیم سے محروم ہی رہ گئیں۔شادی کے جلد بعد ہی اماں جی کی صحت خراب ہو گئی۔علاج معالجہ کے باوجود حالت بگڑتی چلی گئی۔علاج و تیماداری کا ہر ممکن طریق اختیار کیا گیا۔ایک رات جبکہ بہت فکر اور تشویش والی حالت تھی۔مریضہ کو ہوش آئی تو اس نے اپنے خاوند کو سرہانے بیٹھا دیکھا۔مریضہ نے فرمائش کی کہ مجھے مسجد اقصیٰ کے کنوئیں کا پانی پلائیں جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام استعمال فرمایا کرتے تھے، خدا تعالی کی قدرت سے یہ پانی آب شفا بلکہ آب حیات ثابت ہوا اور خدا تعالی نے نئی زندگی عطا فرمائی۔قادیان کے مقدس ماحول اور علمی ذوق کی برکت سے اماں جی نے کلام اللہ پڑھنا سیکھ لیا۔خطبات ، درس، لجنہ کے اجلاسوں میں کمال اہتمام و با قاعدگی سے شمولیت کی وجہ سے علم وسیع ہوتا چلا گیا۔حرف شناسی اور لگن کی وجہ سے درثمین اور الفضل ہمیشہ ہی زیر مطالعہ رہتا۔درثمین اور کلام محمود کے اشعار کثرت سے زبانی یاد تھے۔ہم بہن بھائیوں نے ہی نہیں محلہ کے متعدد بچوں نے اس، ان پڑھ، خاتون سے علم کا ذوق حاصل کیا۔اللہ تعالی کے فضل سے خاکسار کو کچھ عرصہ تنزانیہ (مشرقی افریقہ ) میں خدمت دین کی 29