قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 283 of 365

قسمت کے ثمار — Page 283

ایک اور موقع پر اس بات کی مزید وضاحت کرنے کیلئے آپ نے فرمایا: د میں نے نان کو آپریشن کے متعلق نان کو آپریشن کے پر جوش ممبروں سے دریافت کیا ہے کہ تمہاری حکومت میں ایسا ہو تو تم اسے جائز قرار دو گے یا نہیں بعض نے تو صاف کہ دیا کہ نہیں بعض نے کہا جب ایسا ہوگا تو دیکھا جائے گا۔“ ( الفضل 12 فروری 1923ء) قانون کے احترام کے نتیجہ میں جو قومی مفاد حاصل ہو سکتا ہے اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ کا ارشاد ہے: ٹھنڈے دل سے غور کرو اگر قانون شکنی کی روح کو اس طرح پیدا کیا گیا تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔گورنمنٹ برطانیہ کا خیال دل سے نکال کر یہ تو سوچو کہ اگر ہندوستانیوں کی اپنی حکومت ہو تو کیا تم اس کو جائز سمجھو گے کہ حکومت کے جس حکم کو کوئی درست نہ سمجھے اس کو رد کر دے اور اس کا مقابلہ کرے۔۔۔یاد رکھیں کہ وہی ملک ترقی کر سکتا ہے جس میں قانون کے احترام کا مادہ ہو۔“ ترک موالات - صفحه 5 بعض اوقات قانون شکنی اس وجہ سے ضروری سمجھی جاتی ہے کہ ہمیں ہمارے حقوق نہیں مل رہے۔اس امر کے متعلق روشنی ڈالتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: بہت لوگ ہیں جو کہتے ہیں گورنمنٹ ہمیں حقوق نہیں دیتی اگر چہ میرا اس بات سے اختلاف ہے کہ کوئی ایسے حقوق ہیں جو گورنمنٹ نہیں دیتی لیکن اگر مان بھی لیا جائے کہ یہ بات درست ہے تو میں کہتا ہوں کہ کسی چیز کے حصول کے طریق کئی ایک ہوتے ہیں جن میں سے بعض سے فتنہ و فساد پیدا ہوتا ہے اور بعض امن و امان کے ساتھ جاری رکھنے والے ہوتے ہیں اور کسی عقل مند یا دانا انسان کا یہ کام نہیں کہ ان طریقوں سے کام لے جو فتنہ و فساد پیدا کرنے والے ہوتے ہیں کیونکہ ایسا کرنے سے 283