قسمت کے ثمار — Page 26
مستعد اور ہشیار پایا۔ایسے ہی ایک موقع پر مریضہ نے فرمائش کی کہ اسے بیت اقصیٰ کے اس کنوئیں کا پانی پلایا جائے جو حضرت مسیح موعود ع الاسلام استعمال کیا کرتے تھے۔عقیدت ومحبت کے عالم میں یہ پانی آب شفا بن گیا اور اللہ تعالیٰ نے نئی زندگی عطا فرمائی اور پھر ۵۰ سال سے زیادہ قابل رشک رفاقت رہی جس میں آدھے سے زیادہ وقت درویشی کی وجہ سے بظاہر الگ الگ گزرا مگر باہم افہام تفہیم اور عقیدت و احترام کا یہ عالم تھا کہ جدائی جدائی نہیں بلکہ قرب و وصال کے لئے باعث رشک بن گئی۔بچوں سے محبت کی بے شمار مثالوں میں سے صرف یہی مثال کافی ہوگی کہ جب ایک بچہ ٹائیفائڈ بخار سے بیمار ہو گیا اور بیماری کی شدت کی وجہ سے بچے کو ہسپتال میں داخل کروانا پڑا تو اس کی تیمارداری اور علاج معالجہ میں انہماک کی وجہ سے سارا کاروبار بند ہو گیا۔ہر دوسرے دن ایک بکرا صدقہ دیا جاتا رہا۔دعائیں ہوتی رہیں اور شافی مطلق نے بچے کو شفا عطا فرمائی اور درویش کی زندگی معمول پر آئی۔اتنے پیار کرنے والے خاوند و باپ کو درویشی کی سعادت نظر آئی تو ایسی کوئی محبت اس کا راستہ نہ روک سکی۔زمانہ درویشی میں ایک عرصہ تک جماعت کی طرف سے کوئی مدد حاصل نہ کی۔کاروبار کے معاملہ میں ذہن بہت رسا تھا۔جو کام کیا اس میں انہماک اور محنت کی وجہ سے کمال حاصل کیا اور یہ بھی کہ جس کام کی طرف توجہ کی اسے بغیر کسی باقاعدہ استاد کے خود ہی سیکھا اور پھر اس میں نئی نئی راہیں نکالیں۔یہ ذکر ہو چکا ہے کہ آپ کو باقاعدہ تحصیل علم کا موقع تو نہ مل سکا تھا مگر طبیعت میں علمی رجحان و ذوق بدرجہ اتم تھا۔جلسوں، مباحثوں میں بڑی رغبت سے شامل ہوتے۔کچھ نہ کچھ پڑھتے بھی رہتے اور اس طرح معلومات کا اچھا خاصا ذخیرہ جمع کر لیا تھا اور قدرت نے اسے استعمال کرنے کا خوب ملکہ عطا فرمایا تھا۔گفتگو مؤثر دلچسپ ، برجستہ ہوتی جو برحل مثالی واقعات اور حوالوں سے مزین ہوتی۔قادیان کی پرانی باتیں، احمدی بزرگوں کے حالات و واقعات بیان کرتے اور سماں باندھ دیتے۔علمی ذوق و شوق کی وجہ سے دور دور جا کر قیمتی نایاب کتابیں خرید کر جمع کرتے گئے۔اس شوق 26