قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 25 of 365

قسمت کے ثمار — Page 25

زیادہ تھی۔( یہ اسوقت کی بات ہے جب گندم 5 روپے من اور دیسی گھی ایک روپے سیر ملتا تھا ) درویشی کی جھلک یہاں بھی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔جب حضور نے وقف جائیداد کا مطالبہ فرمایا تو وہ جائیداد جو موروثی یا پشتنی نہیں تھی بلکہ واقعی طور پر گاڑھے پسینے کی کمائی تھی پوری بشاشت کے ساتھ وقف کے لئے پیش کر دی۔اس وقت تو یہ جائیداد عملاً اپنے مالکوں کے پاس ہی رہی تاہم اس درویش کو یہ سعادت بھی حاصل ہوئی کہ قادیان میں مستقل رہائش رکھنے کے باوجود جائیداد پر غیروں کا قبضہ ہو گیا اور آپ نے اس جائیداد سے غیروں کو استفادہ کرتے ہوئے دیکھا مگر درویشی کی دولت کو اس جائیداد سے بڑھ کر ہی دیکھا اور سمجھا۔یہاں یہ ذکر بھی بے محل نہ ہو گا کہ کاروبار کے عروج کے زمانہ میں بھی کبھی کوئی سال ایسا نہ گزرا جب سال میں ایک ماہ وقف عارضی کی سعادت حاصل نہ کی ہو۔(اس قربانی کا اندازہ دکاندار اور کاروباری لوگ ہی پوری طرح کر سکتے ہیں ) شاید اسی وقف عارضی کی برکت تھی کہ تقسیم ملک کے وقت جب قادیان میں دھونی رمانے والے خوش قسمت افراد، درویش کے قابل فخر لقب سے پکارے گئے تو شرح صدر سے اس قربانی کے لیے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔بیوی بچے پاکستان اس حال میں آئے کہ نہ تو ان کے پاس کوئی سامان تھا اور نہ کوئی قریبی رشتہ دار تاہم بڑے پر وقار طریق پر نا مساعد و ناموافق حالات میں ساری ذمہ داریاں ادا کیں۔ہمارا درویش جو ایک وفاشعار خاوند اور جان نثار باپ تھا اگر اس مضمون کو مکمل کرنے کی کوشش کی جاوے تو یہ ایک مضمون نہیں کتاب بن جائے گی۔لہذا صرف ایک ایک بات اختصار سے بیان کرتا ہوں۔درویش کی شادی کے چند دنوں بعد ہی اس کی دلہن شدید بیمار ہوگئی۔علاج معالجہ سے بہتری کی کوئی صورت پیدا نہ ہوئی۔خاوند نے دوا دار و اور تیمارداری کا حق اس طرح ادا کیا کہ بعض قریبیوں کو خود اس کی اپنی صحت اور جان کے متعلق فکر ہونے لگا۔اخلاص اور نیکی کی گود میں پرورش پانے والی خاتون نے شدید بیماری اور مایوسی کے عالم میں جب بھی آنکھ کھولی اپنے خاوند کو خدمت کے لئے 25