قسمت کے ثمار — Page 257
- ہے کیونکہ علماء کی کھلم کھلا مخالفت کی تو موجودہ امریکہ نواز حکومت بھی جرات نہیں کر سکتی۔( تازہ ترین اطلاعات کے مطابق افغان حکومت نے اس شخص کو جیل سے رہا کر دیا ہے اور اسے کسی مغربی ملک میں پناہ دی جارہی ہے )۔کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ افغانستان اور دوسرے اسلامی ممالک اپنے خلاف اسلام اقدامات کی وجہ سے اسلام کی بدنامی کا باعث نہ بنیں۔الفضل انٹرنیشنل 14 اپریل 2006ء) محترم مولانا صالح محمد احمدی صاحب عید قربان سے اگلے روز مورخہ 11 مئی 1995 ء بروز ہفتہ چچا جان مکرم مولانا صالح محمد احمدی ایک لمبی بیماری کے بعد وفات پاگئے۔آپ 1906 میں پیدا ہوئے آپ کا نام آپ کے والد حضرت فضل محمد صاحب نایلون کی درخواست پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے رکھا تھا۔حضرت میاں فضل محمد بی ین: ہرسیاں والے کو ابتدائی زمانہ میں بیعت کی توفیق حاصل ہوئی اور اس کے جلد بعد ہی آپ اپنے گاؤں ہرسیاں سے ترک سکونت کر کے دیار حبیب میں ہی آباد ہو گئے۔اس طرح چچا جان کا بچپن، جوانی اور حصول تعلیم کا سارا زمانہ قادیان کے علمی اور روحانی ماحول میں گزرا جس کا آپ کی طبیعت پر بہت گہرا نقش تھا۔آپ حضرت مولانا نذیر احمد مبشر اور حضرت مولانا احمد خاں نسیم کے ہم جماعت تھے۔اس وقت کے حالات اور طریق کے مطابق مولوی فاضل کر لینے یا جامعہ احمدیہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد سب طلباء کو صدرانجمن احمدیہ کی طرف سے کسی خدمت پر مقرر کیا جانا ضروری نہیں تھا۔محترم چا جان اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کاروبار 257