قسمت کے ثمار — Page 252
واقعات سننے میں آتے ہیں اور جن سے حکومت کو لاکھوں کروڑوں کا نقصان ہو جاتا ہے کئی بیوائیں اپنی زندگی کے سہاروں سے محروم ہو جاتی ہیں، کئی یتیم شفقت پدری کے سایہ سے محروم ہو جاتے ہیں، کئی مائیں اپنے جوان بیٹوں پر ماتم کرتی رہ جاتی ہیں اور دنیا بھر میں مسلمان نشانہ تضحیک بن کر رہ جاتے ہیں وہ ایسے ہی علماء کا کام ہوتا ہے۔اور مزید حیرانی بلکہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ حکومت اور انتظامیہ کو بخوبی معلوم ہے اور ان کے ریکارڈ میں محفوظ ہے کہ اس خرابی ، انار کی اور افراتفری جس سے ملک ترقی کی بجائے تنزل میں چلا جاتا ہے کا باعث اور سبب کون ہے مگر اس کے باوجود کسی سیاسی مصلحت، کسی وقتی اور ذاتی فائدے کی خاطر وہ فساد اور شرانگیزی کے اس ذریعہ کو قابو میں لانے کی بجائے اسے مزید فساد پھیلانے کے لئے کھلا چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ جس طرح چاہیں مذہب اور خدا تعالیٰ کے نام پر جان و مال اور عزت و آبرو سے کھیلتے رہیں۔کبھی شیعہ سنی کے نام پر اور کبھی کسی اور نام پر ملک میں بدامنی پیدا کر کے اپنی مفسدانہ کارروائیوں اور ان کے نتیجہ میں حاصل ہونے والے سیاسی اور زمینی فوائد سے بہرہ ور ہوتے رہیں۔بعض لوگ جو لا علمی یا کسی اور وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ ابھی آخری زمانے کی علامات پوری طرح ظاہر نہیں ہوئیں ، ان کے لئے مندرجہ بالا حدیث میں یہ واضح رہنمائی پائی جاتی ہے کہ جب وہ ذریعہ جس سے اصلاح و بہتری کی توقع کی جاسکتی ہے باقی نہ رہے بلکہ الٹا وہی فساد اور خرابی کا باعث بن جائے اور باڑ ہی کھیت کو خراب کرنے لگ جائے تو اس کے بعد اس سے بڑھ کر اور کس خرابی کا انتظار باقی رہ جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ آخری زمانہ کی سب علامات اپنے اصلی اور حقیقی معنوں میں پوری ہو چکی ہیں۔مسلمانوں کی مایوسی اور تنزل کو دور کرنے والا سیح و مہدی اپنے وقت پر ظاہر ہو چکا۔مبارک وہ جو آنحضرت سائی یا اسلام کی بیان فرمودہ صداقتوں کو سمجھیں ، مانیں اور ان کی برکات سے فائدہ اٹھائیں یار وجومرد آنے کو تھا، وہ تو آچکا۔الفضل انٹرنیشنل 07 اپریل 2006ء) 252