قسمت کے ثمار — Page 234
ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس طرح بات زیادہ لمبی ہو جائے گی البتہ یہ ذکر غیر مناسب نہیں ہوگا کہ سحری کے لئے جگانے کا بھی خوب انتظام ہوتا تھا۔بعض لوگ تو خوشی کے مارے بڑے بڑے ڈھول پیٹتے ہوئے گلیوں میں گھوم رہے ہوتے تھے تو بعض اطفال بھی اس سعادت کو پانے کی خوشی میں کنستروں وغیرہ کو زور زور سے بجاتے ہوئے گزرتے مگر اس کے ساتھ صَلِّ عَلَى نَبِيِّنَا ، صَلِ عَلى مُحَمَّدٍ “ کی مترنم اور روح پرور آواز بھی آتی تھی۔سحری کھا کر مسجدوں کی طرف جانے کا نظارہ بہت ہی پیارا ہوتا تھا۔قادیان کے رہنے والوں کے لئے تو رمضان کی برکتوں میں ایک نمایاں برکت حضرت میر محمد الحق صاحب بیلی عنہ کا درس حدیث تھا۔اس عاشق رسول سال اسلام پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہوں وہ ایک خاص جذبے اور کیفیت سے حدیث پڑھتے ،اس کا مطلب بیان کرتے۔خود بھی روتے اور حاضرین کو بھی رلاتے۔ان کا درس ختم ہونے پر لگتا تھا کہ ہم کسی اور ہی دنیا کی سیر کر کے واپس آئے ہیں۔ربوہ کی مساجد میں بھی اسی طرح درس حدیث کا بابرکت سلسلہ جاری رہا۔مسجد مبارک ربوہ میں کبھی کبھی حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب ہی اللہ بھی درس دینے والوں میں شامل ہوتے تھے۔آپ کا دھیمے مگر مؤثر و پر وقار انداز میں درس بھی ایک منفر درنگ رکھتا تھا۔دو پہر کو سردیوں میں نماز ظہر و عصر کے درمیانی وقفہ میں اور گرمیوں میں نماز عصر کے بعد درس قرآن کریم کا روح پرور سلسلہ ہوتا تھا۔حضرت خلیفہ اول ربی شہ ، حضرت میر محمد اسحق بنی الہ ، حضرت سید سرور شاہ صاحب بینی پختہ اور حضرت حافظ روشن علی صاحب بینی کشتہ کے درس قرآن کریم تو سننے کا اتفاق نہیں ہوا البتہ ان کی ندرت بیان اور نکتہ آفرینیوں کی شہرت ضرور سننے میں آئی ہے۔بہت سے ناموں میں سے حضرت مولانا ابو العطاء صاحب، حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب، حضرت قاضی محمد نذیر صاحب، حضرت قریشی محمد نذیر صاحب، حضرت مولانا ظہور حسین صاحب ، حضرت مولوی عبدالغفور صاحب کے نام ذہن میں آرہے ہیں۔پہلے ایک پارہ کی تلاوت کی جاتی پھر اس کا 234