قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 174 of 365

قسمت کے ثمار — Page 174

مشرقی افریقہ جماعت احمدیہ کے تعلق میں سرزمین افریقہ کو یہ اولیت حاصل ہے کہ وہاں حضرت اقدس مسیح موعود کی زندگی میں ہی پیغام احمدیت پہنچ گیا تھا اور حضرت مسیح موعود علی نام کے بعض صحابی وہاں پہنچے۔مشرقی افریقہ میں احمدیہ مشن کا قیام بھی غیر معمولی حالات میں ہوا۔برطانوی نو آبادی ہونے اور قریب ہونے کی وجہ سے ہندوستان سے تاجر اور ملازمت پیشہ لوگ وہاں قسمت آزمائی کے لئے بآسانی جاسکتے تھے۔وہاں جب ریل گاڑی کا اجراء ہوا تو ہندوستانی مزدور اور کاریگروں کو تجربہ کار اور محنتی سمجھے جانے کی وجہ سے بہت بڑی تعداد میں وہاں پہنچے اور آباد ہونے کے مواقع حاصل ہوئے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدی اپنی دینداری اور بہتر اخلاق کی وجہ سے ترقی کے بہتر مواقع حاصل کرنے لگے تو دوسرے لوگوں کو بھی توجہ پیدا ہوئی اور نیک فطرت لوگ احمدیت میں شامل ہونے لگے جس پر وہاں بھی مخالفت شروع ہو گئی۔مخالفت کی اس رو سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اور احمدیت کو نا کام بلکہ ختم کر دینے کے خیال سے مخالفوں نے پنجاب سے ایک مولوی کو وہاں بلانے کا انتظام کیا۔ان مولوی صاحب کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔مختلف شہروں میں جلسوں کا انعقاد مخالفت میں اور اضافہ کا باعث بنا۔احمدیت کی مخالفت تو کامیابی کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔قادیان میں جب ان حالات کا علم ہوا تو وہاں سے حضرت مولانا شیخ مبارک احمد صاحب، ایک نوعمر مگر پر جوش مبلغ کو وہاں بھجوایا گیا۔مشرقی افریقہ کی مختصر سی جماعت جو مخالفت کی شدت کی وجہ سے پہلے ہی تبلیغ و قربانی کے 174