قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 129 of 365

قسمت کے ثمار — Page 129

شروع کرتے اور درود شریف پڑھتے ان پر ایک خاص کیفیت اور رقت طاری ہو جاتی۔یوں لگتا تھا کہ حضرت میر صاحب بینی شتہ زمانوں اور فاصلوں کو طے کر کے حضور اکرم سانیا اسلام کے زمانے میں پہنچ گئے ہیں یا وہ زمانہ اور مجالس حضرت میر صاحب بیان کے سامنے آگئی ہیں اور اب جو کچھ بیان ہوگا وہ زبان آوری اور لسانی نہیں بلکہ حضور میلیا ایلم کی مجالس اور حضور کے اسوہ حسنہ کا آنکھوں دیکھا حال ہوگا۔حضرت میر صاحب بینی کی یہ کیفیت درس کے دوران برابر جاری رہتی اور آپ کے سامعین بھی کسی اور ہی عالم میں پہنچے ہوئے ہوتے تھے۔درس حدیث کا ایک مستقل اور اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ حضور صلی ایام کے ذکر مبارک پر کثرت سے درود پڑھنے کا موقع ملتا ہے۔درود پڑھنے سے خدا تعالیٰ کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے اور یہ ایسی نیکی اور عبادت ہے جو قرب الہی کے حصول کے لئے نہایت مفید و مؤثر ذریعہ ہے۔بزرگوں نے لکھا ہے کہ حدیث سننے سنانے کی برکت سے انسان کو صحابیت معنوی حاصل ہوتی ہے۔اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ حضور سی اینم کا زمانہ تو گزر گیا اب کوئی کتنی بھی کوشش کرے وہ اس زمانے کو تو حاصل نہیں کر سکتا البتہ علمی و ذہنی طور پر محبت وعقیدت سے اس زمانے میں پہنچنے کی کوشش سے معنا یہ سعادت حاصل ہو سکتی ہے۔حدیث کی اہمیت بیان کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: و متقی کے واسطے مناسب ہے کہ اس قسم کا خیال دل میں نہ لاوے کہ حدیث کوئی چیز نہیں اور آنحضرت صل السلام کا جوعمل تھا وہ گویا قرآن کے مطابق نہ تھا۔آجکل کے زمانہ میں مرتد ہونے کے قریب جو خیالات پھیلے ہوئے ہیں ان میں سے ایک خیال حدیث شریف کی تحقیر کا ہے۔آنحضرت سلائی سی ایم کے تمام کاروبار قرآن شریف کے ماتحت تھے۔اگر قرآن شریف کے واسطے معلم کی ضرورت نہ ہوتی تو قرآن رسول پر کیوں اترتا۔یہ لوگ بہت بے ادب ہیں کہ ہر ایک اپنے آپ کو ایسا سمجھتا ہے کہ قرآن شریف اسی پر نازل ہوا 129