قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 130 of 365

قسمت کے ثمار — Page 130

ہے۔یہ بڑی گستاخی ہے ایک چکڑالوی مولوی جو معنے قرآن کے کرے اس کو مانا جاتا ہے اور قبول کیا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کے رسول پر جو معنے نازل ہوئے ان کو نہیں دیکھا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ نے تو انسانوں کو اس امر کا محتاج پیدا کیا ہے کہ ان کے درمیان کوئی رسول مامور مجد دہو۔مگر یہ چاہتے ہیں کہ ان کا ہر ایک رسول ہے اور اپنے آپ کوغنی اور غیر محتاج قرار دیتے ہیں۔یہ سخت گناہ ہے۔ایک بچہ محتاج ہے کہ وہ اپنے والدین وغیرہ سے تکلم سیکھے اور بولنے لگے۔پھر استاد کے پاس بیٹھ کر سبق پڑھے۔” جائے استاد خالی است قرآن تمہارا محتاج نہیں پر تم محتاج ہو کہ قرآن کو پڑھو سمجھو اور سیکھو۔جبکہ دنیا کے معمولی کاموں کے واسطے تم استاد پکڑتے ہو تو قرآن شریف کے واسطے استاد کی ضرورت کیوں نہیں؟ کیا بچہ ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی قرآن پڑھنے لگے گا؟ بہر حال معلم کی ضرورت ہے۔جب مسجد کا ملاں ہمارا معلم ہو سکتا ہے تو کیا وہ نہیں ہو سکتا جس پر خود قرآن شریف نازل ہوا ہے۔دیکھو قانون سرکاری ہے اس کے سمجھنے اور سمجھانے کے واسطے بھی آدمی مقرر ہیں حالانکہ اس میں کوئی ایسے معارف اور حقائق نہیں جیسے خدا تعالیٰ کی پاک کتاب میں ہیں۔یا درکھو کہ سارے انوار نبی کریم صلی ایم کی اتباع میں ہیں۔جولوگ آنحضرت سالی ایم کی اتباع نہیں کرتے انکو کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔بجز نو را تباع خدا تعالیٰ کو بھی پہچانا مشکل ہے۔شیطان، شیطان اسی واسطے ہے کہ اس کونور اتباع حاصل نہیں۔آنحضرت سیلی ملایم تریسٹھ سال دنیا میں رہے۔متقی کا فرض ہونا چاہئے کہ وہ اس بات کو محبت کی نگاہ سے دیکھے کہ آنحضرت سائلہ اسلام کا کیا طریق عمل تھا۔“ ( ملفوظات۔جلد پنجم صفحہ 245،244۔ایڈیشن 2003 مطبوعہ ربوہ ) الفضل انٹرنیشنل 29 اکتوبر 2004ء) 00 130