قسمت کے ثمار — Page 121
جہاد اکبر جہاد کا لفظ قرآن مجید اور احادیث میں بہت وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے۔اس کے لفظی معنی تو کوشش کے ہیں مگر اصطلاحی طور پر یہ لفظ اسلامی دفاعی جنگوں تبلیغ واشاعت اسلام اور اصلاح و تزکیۂ نفس کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔آخر الذکر جہاد کو حضور صلی اینم نے جہادا کبر قرار دیا ہے کیونکہ اس جہاد کے لئے کوئی شرط اور قید نہیں ہے بلکہ یہ ہر مسلمان پر ہر وقت فرض ہے اور نتائج کے لحاظ سے زیادہ مفید بھی بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ اس جہاد کے بغیر دوسری قسموں کے جہاد ہو ہی نہیں سکتے۔جب تک انسان خود اپنی اصلاح کر کے اس قابل نہ ہو جائے کہ وہ دوسروں کی اصلاح کر سکے اس وقت تک نہ تو وہ تبلیغ و اشاعت کا کام کرسکتا ہے اور نہ ہی صحیح معنوں میں دفاع اسلام کی کوششوں میں کما حقہ شامل ہو سکتا ہے۔قرآن مجید اس بنیادی ذمہ داری کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے فرماتا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ (المائدة : 106) اے مومنو! اپنے نفوس کی اصلاح و بہتری کا خیال رکھو۔اگر تم صحیح طریق پر گامزن ہو تو کسی کی گمراہی تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ایک مومن کی یہ سب سے پہلی بنیادی ذمہ داری اس قسم کی ہے کہ وہ مدت العمر اسی کی ادائیگی میں لگا رہے تو اسے اس بات کی فرصت کم ہی ہو سکے گی کہ وہ دوسروں کی کمزوریوں، برائیوں، 121