قسمت کے ثمار — Page 73
خلافت ایک بابرکت نظام انسانی تاریخ میں مختلف طرز حکومت کا ذکر ملتا ہے۔ابتدائی زمانہ میں بادشاہت کا دور نظر آتا ہے جس میں بالعموم کوئی انسان اپنی ذہنی یا جسمانی صلاحیتوں کی بنا پر اپنے ساتھیوں پر فوقیت حاصل کر لیتا ہے اور پھر ان کو اپنا تابع اور مطیع بنا کر ان پر حکومت کرتا ہے۔یہ سلسلہ بالعموم وراثت میں چلتا ہے اور آہستہ آہستہ ایک خاندان کی حکومت ختم ہو کر دوسرا کوئی اور خاندان سامنے آجاتا ہے۔بادشاہت کی متعدد اور مختلف شکلیں سامنے آتی رہیں تا آنکہ جمہوریت کا زمانہ آ گیا اور یہ بات عام انسانوں کو بہت بھلی اور پیاری لگی کہ عوام کے ذریعہ عوام کی حکومت۔تاہم ہر ملک اور علاقہ میں وہاں کے حالات کے مطابق جمہوریت کی تعریف اور شکل بدلتی رہی اور موجودہ دور میں جمہوریت کا جو عام تصور ہے وہ یقیناً اس تصور سے بہت مختلف ہے جو ابتداء میں پیش کیا گیا تھا۔جمہوریت کی کوکھ سے کئی اور نظام جنم لیتے رہے۔کچھ عرصہ پہلے تک کمیونزم اور سوشلزم کا بہت چر چاتھا مگر یہ عجیب بات ہے کہ کمیونزم اپنے عروج کی بلندیوں تک پہنچنے کے بعد زوال کی بدترین شکل کو پہنچ چکا تھا مگر کبھی بھی اپنی کتابی تعریف کے مطابق کہیں بھی روبہ عمل نہیں آسکا۔یہی حال سوشلزم کا ہے۔اس کا حلیہ بھی ہر جگہ تبدیل ہوتار ہا کبھی اسے کمیونزم کی ابتداء کے طور پر پیش کیا گیا، کبھی اس کے ساتھ افریقی سوشلزم کا لاحقہ لگا کر اس کی شکل تبدیل کی گئی اور کبھی اسلامی سوشلزم کے نام سے اسلام سے بھونڈ امذاق کیا جاتا رہا۔73