قسمت کے ثمار — Page 39
حضرت مفتی محمد صادق صاحب بیان کے بیان فرمودہ مذکورہ واقعہ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ حضور علیہ السلام کی زندگی کا اعلیٰ ترین مقصد کیا تھا۔عام مناظروں میں کامیابی یا علمی برتری کا حصول آپ کا مقصد نہیں تھا بلکہ آپ کی بعثت کا اصل اور اعلیٰ اور برتر مقصد یہ تھا کہ لوگ سچے خدا کو پہچان کر حقیقی موحد بن جائیں اور کامل طور پر مسلمان ہو جائیں۔اس سے ان داعیان الی اللہ کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو تبلیغ کے دوران محض اپنے مخالف کو دلائل میں نیچا دکھانے کی کوشش میں رہتے ہیں یا اسے خاموش کرنے یا اپنی برتری کی فکر رکھتے ہیں۔ہمارا مقصد اسلام کے لئے اور خدائے واحد کیلئے لوگوں کے دل جیتنا ہے۔محض بحث و مباحثہ یا مناظرہ میں کامیابی کی خبر کوئی خاص وقعت نہیں رکھتی۔ہاں اگر آپ لوگوں کے دل اسلام کے لئے جیتے ہیں تو یہ وہ بات ہے جو خدا کے برگزیدہ مسیح کے نزدیک اصل خوشخبری ہے۔اسی مضمون کی طرف سیدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ اپنے خطبات میں توجہ دلاتے ہیں کہ ایسی دعوت الی اللہ کریں جو باثمر ہو اور اگر اس کے نتیجہ میں آپ کو پھل عطا نہیں ہوتے تو فکر کریں کہ آپ کی دعوت الی اللہ میں کہیں کوئی نقص پایا جاتا ہے۔آج سے کم و بیش سو سال پہلے کے اس واقعہ پر ایک اور پہلو سے غور کریں۔قادیان کی گمنام بستی میں خدا کا برگزیدہ مسیح یورپ کے مسلمان ہونے کی خوشخبری سنے کا منتظر ہے۔اس وقت کے حالات میں کون کہ سکتا تھا کہ کبھی یہ آواز قادیان سے باہر بھی پہنچ جائے گی ، مگر خدا سے تائید یافتہ یہ پیغام مسیح موعود علیہ السلام زمین کے کناروں تک پھیلتا چلا گیا اور تثلیث زدہ یورپ میں بھی توحید کی ہوائیں چلنے لگیں۔آج سے چند سال قبل تک بھی یہ تصور نہیں کیا جاسکتا تھا کہ یورپ میں ہر سال سینکڑوں کی تعداد میں لوگ احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں داخل ہوں گے لیکن دنیا بھر کے احمدی جو عالمی بیعت کے روح پرور نظاروں سے آشنا ہیں وہ اس بات پر گواہ ہیں کہ گزشتہ چند سالوں سے ہر سال صرف یورپ میں ہی ہزاروں کی تعداد میں لوگ حلقہ بگوش اسلام ہورہے ہیں۔سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔بہت ہی مبارک اور خوش نصیب ہیں وہ داعیان الی اللہ جو یورپ کو مسلمان کرنے 39