قسمت کے ثمار — Page 38
روز مرہ کے معمولات میں ہونے والا یہ بظاہر ایک چھوٹا سا واقعہ ہے لیکن اس پر معمولی غور سے بھی معلوم ہوسکتا ہے کہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کے قلب صافی میں کس طرح یہ خواہش ہر وقت ایک بے قرار تمنا کی صورت میں موجزن رہتی تھی کہ لوگ مسلمان ہو جائیں اور یورپ بھی مسلمان ہو جائے۔اس ارشاد مبارک سے آپ کے اس یقین کا بھی پتہ چلتا ہے جو آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے حاصل تھا کہ وہ وقت ضرور آئے گا جب یورپ بھی مسلمان ہوگا اور یہ کوئی ایسی بات نہیں جو ناممکنات میں سے ہو۔آپ یہ پختہ اعتقاد رکھتے تھے کہ رسول اللہ مایا یہ ہم کی پیشگوئی کے مطابق وہ وقت ضرور آئے گا جب اسلام کا سورج مغرب سے طلوع کرے گا چنانچہ آپ نے فرمایا: اب وہ دن نزدیک آتے ہیں کہ جو سچائی کا آفتاب مغرب سے چڑھے گا اور یورپ کو سچے خدا کا پتہ لگے گا اور بعد اس کے تو بہ کا دروازہ بند ہوگا کیونکہ داخل ہونے والے بڑے زور سے داخل ہو جائیں گے اور وہی باقی رہ جائیں گے جن کے دل پر فطرت سے دروازے بند ہیں اور نور سے نہیں بلکہ تاریکی سے محبت رکھتے ہیں۔قریب ہے کہ سب ملتیں ہلاک ہوں گی مگر اسلام۔اور سب حربے ٹوٹ جائیں گے مگر اسلام کا آسمانی حربہ کہ وہ نہ ٹوٹے گا نہ کند ہوگا جب تک دجالیت کو پاش پاش نہ کر دے۔وہ وقت قریب ہے کہ خدا کی سچی تو حید جس کو بیابانوں کے رہنے والے اور تمام تعلیموں سے غافل بھی اپنے اندر محسوس کرتے ہیں ملکوں میں پھیلے گی۔اس دن نہ کوئی مصنوعی کفارہ باقی رہے گا اور نہ کوئی مصنوعی خدا۔اور خدا کا ایک ہی ہاتھ کفر کی سب تدبیروں کو باطل کر دے گا۔لیکن نہ کسی تلوار سے اور نہ کسی بندوق سے بلکہ مستعد روحوں کو روشنی عطا کرنے سے اور پاک دلوں پر ایک نورا تارنے سے۔تب یہ باتیں جو میں کہتا ہوں سمجھ میں آئیں گی۔( مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 304-305- تذکرہ 244) 38