قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 349 of 365

قسمت کے ثمار — Page 349

تھی۔حضرت مصلح موعود بٹالہ کا عزم اور کارکنوں کا اخلاص کام کو چلانے اور آگے بڑھانے کا باعث بنا۔حضور بنی کے ارشاد کے مطابق ایک متروکہ عمارت میں جامعہ احمدیہ شروع کیا گیا۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب ابھی قادیان میں تھے۔مکرم حافظ مبارک احمد صاحب مرحوم نے کام شروع کیا۔مختلف کلاسوں کے طالب علم ایک ہی دستیاب چٹائی پر بیٹھے ہوئے۔محترم حافظ صاحب کے تجربات اور علمی نکات سے استفادہ کر رہے ہوتے۔یادر ہے کہ ایک چٹائی کے علاوہ جامعہ احمدیہ کے فرنیچر میں ایک شکستہ کرسی بھی شامل تھی۔تھوڑے عرصے کے بعد ہی جامعہ احمد یہ چنیوٹ اور پھر احمد نگر منتقل ہو گیا۔احمد نگر میں جامعہ احمدیہ کا ہوٹل جس نیم پختہ عمارت میں شروع ہوا وہ اصطبل کے نام سے جانی جاتی تھی۔اس کے نیم تاریک کمروں کی صفائی میں وقار عمل ہی کام آتارہا۔جامعہ کے اکثر بزرگ اساتذہ جذبہ خدمت سے سرشار تعلیم دینے میں منہمک ہو گئے۔طالب علم اپنی اپنی استعداد اور شوق کے مطابق استفادہ کرنے لگے۔اس جگہ بھی اکثر کلاسیں چٹائیوں پر ہی ہوتی تھیں۔اساتذہ کرام کی رہائش کی سہولت نا گفتہ بہ تھی۔ہماری خوراک بھی ابتدائی زمانے اور تنگی کی وجہ سے بہت عجیب تھی ایک وقت ایسا بھی آیا کہ گندم کے بعد موٹے چاول کی سپلائی بھی ممکن نہ رہی تو گاجروں میں گڑ ڈال کر گجریلا پکایا جاتا تھا جو عام طور پر انسانوں کی خوراک نہیں لگتی تھی نوجوانی کے زمانے میں ان عیاشیوں سے کئی لطائف جنم لیتے تھے اور اس طرح خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ دلی اور شگفتہ مزاجی قائم رہتی تھی۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جس زمانہ کا ذکر ہو رہا ہے وہ بہت ہی سستا زمانہ تھا۔بعض طالب علم جو جیب خرچ کے معاملہ میں قدرے بہتر حالت میں تھے وہ ایک روپے کا آٹھ چھٹانک (قریباً 500 گرام) تازہ مکھن حاصل کر سکتے تھے۔ایک سال تو گندم اتنی سستی ہو گئی کہ سات روپے میں ایک من ( قریباً35 کلو ) مل جاتی تھی۔کئی سال کے بعد جامعہ احمد نگر سے ربوہ منتقل ہوا۔مگر ربوہ سے جو تصور اب ذہن میں اُبھرتا 349