قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 314 of 365

قسمت کے ثمار — Page 314

پہلے میرا بیٹا اس قربانی پر لبیک کہے گا۔قربانی کا یہ جذبہ اسی جذبہ سے پھوٹ رہا تھا جو امام جماعت کے عمل اور نمونے میں پایا جاتا تھا۔حضرت مصلح موعود ی ان کی تحریک پر قربانی کے ایسے ایسے مظاہرے دیکھنے میں آتے ہیں جن پر عقل حیران رہ جاتی ہے بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ آپ کے ارشادے عاقل کا یہاں پر کام نہیں گو لاکھوں ہوں بے فائدہ ہیں مقصود مرا پورا ہو اگر مل جائیں مجھے دیوانے دو پر پوری طرح عمل پیرا تھے۔قربانی کی بے شمار مثالیں ہمارے لٹریچر میں محفوظ ہو چکی ہیں اور قربانی کے بے شمار ایسے کار ہائے نمایاں ہیں جو نہ تو ہمارے لٹریچر میں محفوظ ہیں اور نہ ہی تاریخ میں ان گمنام قربانی کرنے والوں کا کبھی نام آسکے گا۔جنہوں نے بڑی خاموشی لیکن پوری بشاشت سے اپنے اموال اپنی جانیں اور عزتیں خدا تعالیٰ کے راستہ میں قربان کیں۔حضرت مصلح موعود نیا نے بڑی مسرت اور خوشی سے جماعت کی ان قربانیوں کا بار ہا تذکرہ فرمایا۔ایک موقع پر تو آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر خود کشی ہمارے مذہب میں حرام نہ ہوتی تو میں اس وقت ایک سونو جوانوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے پیٹ میں چھرا گھونپ کر اپنے آپ کو ہلاک کر لیں تو یہ نو جوان ابھی سب کے سامنے اپنی جانیں قربان کر دیں گے اور کسی قسم کی کمزوری یا بزدلی کا اظہار نہ کریں گے۔قربانی کا یہ سلسل اور شاندار مظاہرہ جو کئی لحاظ سے اپنی مثال آپ ہے حضرت صاحب کی قائدانہ صلاحیتوں کا ایک ایسا ثبوت ہے کہ ہر شخص جو تعصب اور ضد سے کام نہ لے، اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوگا۔(روزنامه الفضل ربوہ 27 جون 1997ء) 314