قسمت کے ثمار — Page 310
ایک مثالی رہنما دنیا میں جتنے بھی نامورلیڈر گزرے ہیں ان کی نمایاں مشترکہ خوبی یا خصوصیت ان کی یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ اپنی زیر قیادت فوج یا جماعت میں قربانی کی روح اور جوش عمل پیدا کر دیتے ہیں۔ایک اچھا سپاہی یا ایک اچھا شہری بھی قابل قدر ہوتا ہے مگر اچھے لیڈر تو اچھے سپاہی اور اچھے شہری بناتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ عزت وشہرت کے آسمان پر دائی عزت کے حقدار قرار پاتے ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی بیلی عنہ نے اطاعت و فرمانبرداری کے ساتھ اپنی نوجوانی قابل رشک خوبیوں کے ساتھ بسر کی اور جب عالم جوانی میں آپ منصب خلافت پر فائز ہوئے تو خدا تعالیٰ کی تائید ونصرت کے ساتھ اپنے بہت ہی محدود ذرائع اور بہت ہی چھوٹی سی غریب جماعت کو اس طرح منظم کر دیا کہ وہ جوش و جذ بہ سے پر ہو کر شاندار قربانیاں پیش کرنے کی یادگار مثالیں قائم کرنے لگے۔آپ نے بڑے ہی سوچے سمجھے طریق پر جماعت کے سامنے اپنا لائحہ عمل رکھا جو یقیناً قرآن مجید کی روشنی میں مرتب کیا گیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ لائحہ عمل اس عمر میں مرتب و پیش کیا گیا تھا جو آپ کی عمر کا ابتدائی دور تھا اور جسے جماعت کے بعض ”سر بر آوردہ کارکن اور عہد یدار اپنے خیال خام میں بچپن سے یاد کرتے تھے اور اپنی گفتگو میں آپ کو بچے کے لفظ سے یاد کیا جا تا تھا۔آپ کی ابتدائی دور کی وہ تقاریر جن میں آپ نے اپنی ترجیحات بیان فرمائی تھیں آج 310