قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 304 of 365

قسمت کے ثمار — Page 304

مارتا ہے اور آپ کا سچا مرید ہے۔اس کو طاعون نہ چھوئے گی لیکن میں ہی نابکار نکلا جو احمدیوں میں سے طاعون میں مبتلا ہوا۔حالانکہ ہندوؤں اور غیر احمدیوں میں سے پچھپیں پچیس آدمی بھی روز مرتے لیکن باوجود اس امر کے کہ میرا وجود بد نام کنندہ نکونامے چند تھا، تاہم حضرت صاحب کی خدمت میں مولوی عبد الکریم صاحب نے عرض کیا کہ اس۔کا باپ بھی اس کو لینے آیا تھا۔لیکن اس نے قادیان چھوڑ نا پسند نہیں کیا۔حضرت صاحب نے باوجود اس سے سخت کمزوری کے میرے لئے دعا کی اور دوا بھی خود ہی تجویز فرمائی چنانچہ مجھے معلوم ہوا کہ حضرت صاحب خود کمال مہربانی سے اپنے ہاتھوں روزانہ دوائی تیار کر کے بھتیجے اور دو تین وقت روزانہ میری خبر منگواتے۔یہ کمال شفقت ایک گمنام شخص کے لئے جو نہ دنیوی اور نہ دینی لیاقت رکھتا ، نہ کوئی دینی یا دنیوی وجاہت۔ایک ادنی اور ذلیل خادموں میں سے تھا۔میرا ایمان ہے کہ میں آپ کی دعاؤں سے ہی بچ گیا ورنہ جن دنوں میں بیمار ہوا اس وقت طاعونی مادہ ایسا زہریلا تھا کہ شاذ ہی لوگ بچتے تھے۔(الحکم 28 دسمبر 1919 ء ) یقیناً خوش قسمت اور قابل رشک ہے وہ انسان جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں دین کی خدمت کیلئے وقف کا عہد کیا اور خدمات کی توفیق پائی۔خلافت اولی اور خلافت ثانیہ اور خلافت ثالثہ میں شاندار خدمات کی سعادت حاصل کی۔خلافت رابعہ کا زمانہ اس حال میں پایا کہ خدمات کا سلسلہ برابر جاری تھا۔حضرت مرزا طاہر احمد خلیفہ امسیح الرابع ایشیعلیہ نے حضرت مولوی صاحب بیٹھی کی وفات پر ان کی شاندار خدمات کا بہت اچھے رنگ میں ذکر کرتے ہوئے یہ تاریخی الفاظ ارشاد فرمائے: اب آخر پر میں ایک ایسے داعی الی اللہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو تین روز قبل ہم سے 304