قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 299 of 365

قسمت کے ثمار — Page 299

اس کے بعد آپ طویل عرصہ دوبارہ ہیڈ ماسٹر کی حیثیت سے تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں خدمات بجالاتے رہے۔1942ء سے 1947 ء تک آپ گرلز ہائی سکول قادیان کے ہیڈ ماسٹر رہے۔قیام پاکستان کے بعد حضرت مولوی صاحب کو ایک لمبے عرصہ تک ناظر تعلیم کے طور پر خدمات بجالانے کی توفیق ملی۔انگریزی اور اُردو زبانوں میں شائع ہونے والے بلند پایہ رسالے ریویو آف ریلیجنز کے ایڈیٹر کے فرائض سرانجام دینا بھی آپ کی خدمات جلیلہ کی لمبی فہرست میں شامل ہے۔1965ء میں جب صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب (حضرت خلیفہ المسیح الثالث را فیملی ) امامت کے منصب پر فائز ہوئے تو حضرت مولوی صاحب کی انتہائی اعلیٰ خدمات بجالانے کی توفیق ملی۔یہ عہدہ جماعت احمدیہ میں ذمہ داری اور مرتبہ کے لحاظ سے انتہائی وقیع اور بلند سمجھا جاتا ہے۔آپ اپنی وفات تک اسی عہدہ پر فائز تھے۔( الفضل 9 مارچ 1983 ء ) حضرت مولوی صاحب کے متعلق ان کے ایک ہم عصر استاد مکرم میاں محمد ابراھیم صاحب جمونی نے جو انہیں اپنے باپ کی طرح سمجھتے تھے اور جو بعد میں خود بھی تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر رہے ایک مضمون میں لکھا: انگریزی زبان کا ایک مقولہ ہے: Simple Living And High Thinking حضرت مولوی صاحب تمام عمر اس پر عامل رہے۔لباس نہایت سادہ رہا۔اپنی ذات پر بے ضرورت خرچ کرنے سے گریز کرتے اور انتہائی کفایت شعاری کو اپنا معمول بنائے رکھا۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ابتدا میں بے بضاعتی اور تنگی دیکھ چکے تھے۔دس روپے پر ملازم ہوئے اور سلسلہ سے وابستہ رہنے کے اس وسیلہ کو فضل الہی گردانا۔پیسے کی قدر تھی اور اس کا صحیح اور جائز مصرف کرتے تھے۔باوجود بعد میں فراخی آجانے کے ان کی عادات سادہ اور بے تکلف ہی رہیں اور نسبتاً خوشحال ہو جانے پر بھی اس درویش صفت انسان نے تکلف اور تصنع کو پاس نہ پھٹکنے دیا۔زندگی برائے 299