قسمت کے ثمار — Page 276
اضافہ کا ایک ظاہری اور نمایاں سبب یہ بھی تھا کہ وہ مہمان نوازی اور گھر کے خدام کو اپنے ہاتھوں سے سحری تیار کر کے روزے رکھواتی تھیں اور اس وجہ سے طبیعت زیادہ خراب ہو گئی۔اس ایک مثال سے ہی پتہ چل سکتا ہے کہ آپ کے گھروں میں اس نیکی کے کام کی طرف کتنی توجہ تھی۔جیسا کہ ذکر آچکا ہے۔دارالضیافت اور انتظام جلسہ سالانہ تو ہمیشہ ہی اس کی سرانجام دہی میں مصروف رہتا تھا مگر خود حضرت صاحب بھی ذاتی طور پر پیش پیش ہوتے تھے۔صدرانجمن احمدیہ نے ایک سال مد مہمان نوازی میں کچھ رقم پیش کی تو اگلے سال آپ نے فرمایا: ایک مدایسی ہے جس کے متعلق میں چاہتا ہوں کہ اسے اُڑا دوں۔۔۔وہ مہمان نوازی کی مد ہے۔ہے تو ضروری لیکن میں سمجھتا ہوں اگر کسی شخص کو توفیق حاصل ہو تو۔۔۔کسی قسم کا روپیہ وصول کرنا طبیعت پر گراں گزرتا ہے۔۔۔اس مد کو نکال دیا جائے۔“ دنیا کے مختلف ممالک میں جلسہ سالانہ کا انعقاد اور حضرت امام جماعت احمدیہ کے ربوہ سے باہر رہنے کی وجہ سے اس عظیم الشان کام میں جو وسعت پیدا ہوئی ہے اس کو بیان کرنے کیلئے الگ مضمون بلکہ کتاب کی ضرورت ہے۔اللہ اس نیکی کو ہم میں ہمیشہ قائم رکھے۔(روزنامه الفضل ربوہ 22 مئی 1996ء) 276