قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 275 of 365

قسمت کے ثمار — Page 275

وجہ سے خلل پیدا ہو۔ہماری تاریخ کا یہ نمایاں امر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے زندگی بھر مہمان نوازی کا شعبہ اپنے پاس ہی رکھا۔جماعت کا ہر فرد اور انصاف پسند غیر از جماعت بھی اس امر کے گواہ ہیں کہ دار الضیافت خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ ہی ترقی پر رہا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ایک عربی شعر میں جو ارشاد فرمایا تھا کہ کبھی دستر خوان کے ٹکڑے میرے حصہ میں آتے تھے اور اب کئی خاندانوں کو میری وجہ سے کھا نامل رہا ہے تو یہ ایک ایسی صداقت ہے جس پر تمام وہ خاندان جو دنیا بھر میں احمد یہ مہمان نوازی سے مستفید ہور ہے ہیں، گواہ ہیں۔حضرت خلیفہ المسیح اول بنی ہوہ کی سیر چشمی اور توکل کا مقام بہت ہی بلند اور ارفع تھا آپ نے ہمیشہ ہی اپنی آمدنی پر مستحقین کا حق سمجھا اور اپنی ضروریات پر دوسروں کی ضروریات کو ترجیح دی اور جو ملا خدا کی راہ میں دے کرسکون و دلجمعی کی لازوال دولت سے مالا مال رہے۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفة المسح لثانی بی خون کو مہمان نوازی کا خلق عظیم ورثہ میں ملا تھا۔قادیان اور گرد و نواح کے لوگ اپنی طبی ضروریات ہمیشہ اس خاندان کے ذریعہ پوری کرتے رہے اور جب تک حضرت مولانا نور الدین کا مطب اور الگ ہسپتال قائم نہیں ہوا۔مریضوں کی آماجگاہ یہی خاندان تھا۔دار الضیافت کا انتظام تو باقی شعبوں کی طرح پہلے سے زیادہ بہتر ہوا مگر آپ ہمیشہ جماعت کو انفرادی طور پر بھی مہمان نوازی کی طرف توجہ دلاتے رہے اور آپ کا اپنا نمونہ بھی قابل رشک تھا۔سرحد اور حیدر آباد کے بعض خاندانوں سے آپ کے خاندانی مراسم تھے۔ان خاندانوں کے افراد قادیان آتے تو حضرت صاحب کے ذاتی مہمان سمجھے جاتے۔جلسہ سالانہ پر جماعتی انتظام کے تحت ہزاروں مہمان عزت و احترام کے ساتھ ٹھہرائے جاتے اور ان کے قیام و طعام کا انتظام ہوتا مگر ان دنوں میں حضرت صاحب کے گھروں میں بھی مہمان خانہ کا ہی نظارہ ہوتا۔حضرت اُم طاہر کی بیماری اور وفات کے حالات میں اس امر کا ذکر پایا جاتا ہے کہ آپ کی بیماری میں 275