قسمت کے ثمار — Page 241
پس میرا یہ اصول رہا ہے کہ ایسی کتاب کا جواب دیا جاوے۔۔۔اور ایسا شافی جواب دیا جاوے کہ خود ان کو اس کی اشاعت کرتے ہوئے ندامت محسوس ہو۔۔۔پس میری رائے یہی ہے اور میرے دل کا فتویٰ یہی ہے کہ اس کا دندان شکن جواب نہایت نرمی اور ملاطفت سے دیا جائے۔پھر خدا چاہے گا تو ان کو خود ہی جرات نہ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 159 ) ہو سکے گی۔“ کتاب کو سرکاری طور پر ضبط کروانے میں حضرت مسیح موعود علی شام کے نزدیک یہ نقصان بھی ہو سکتا ہے کہ غیر مذاہب والے ہی نہیں خود مسلمانوں میں سے بھی بعض یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ہمارے مذہب میں واقعی کوئی ایسی کمزوریاں پائی جاتی ہیں جس کا ہم پورے طور پر دفاع نہیں کر سکتے اور مجبور ہو کر گورنمنٹ سے استمداد کرتے ہیں کہ وہ اس کتاب کو ضبط کر لے۔اور پھر یہ بھی کہ ایسی ضبط ہونے والی کتاب کی تو پہلے ہی اشاعت ہو چکی ہوتی ہے اور جوز ہر مخالف پھیلانا چاہتے ہیں وہ پھیلا چکے ہوتے ہیں۔اگر اس کا شافی و مسکت جواب نہ دیا جاوے تو اس زہر کا تریاق نہیں ہوسکتا۔دل آزار کارٹون کی اشاعت پر جماعت احمدیہ کی طرف سے اخبار اور حکومت سے معقول طریق پر احتجاج کیا گیا اور وہ لوگ جو اس دل آزاری کا باعث ہوئے تھے انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اس پر معذرت بھی کر لی۔اس موقع پر ایک اور رد عمل بھی دیکھنے میں آرہا ہے اور وہ احتجاجی جلوس ، ہڑتال ،لوٹ مار، آتش زنی ، پہلے جلانے قتل و غارت، جائیداد و املاک کا نقصان کرنے کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔اس رد عمل کے متعلق نرم سے نرم لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایسے لوگ ہوش پر جوش کو مقدم کرتے ہوئے ، سچائی پر ہونے کے باوجود اسلام کی بدنامی کا باعث بنے قتل وغارت اور فساد وغیرہ سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کارٹون بنانے والے اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے اور مسلمانوں نے خود اپنے ہو۔ہاتھوں سے اپنا نقصان کرتے ہوئے رحمتہ للعالمین مال لا السلام کی تعلیم اور اسوہ حسنہ سے انحراف کا 241