قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 240 of 365

قسمت کے ثمار — Page 240

اور فکر کے لئے قرآن کریم میں بار بار تاکیدیں موجود ہیں۔کتاب مکنون اور قرآن کریم میں فکر کرو اور پارسا طبع ہو جاؤ۔جب تمہارے دل پاک ہو جائیں گے اور ادھر عقل سلیم سے کام لو گے اور تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے پھر ان دونوں کے جوڑ سے وہ حالت پیدا ہو جائے گی کہ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ آل عمران (192) تمہارے دل سے نکلے گا۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 41) یورپ کے کسی اخبار نے آنحضرت سلیا ایلم کی شان اقدس میں گستاخی کرتے ہوئے نہایت دل آزار قسم کے کارٹون شائع کئے ہیں۔اس پر مسلمانوں میں غم وغصہ کے جذبات پیدا ہونا بالکل فطری اور طبعی امر ہے۔کیونکہ ایک سچے مسلمان کے لئے اس سے زیادہ تکلیف کی اور کوئی بات نہیں ہوسکتی کہ اس کے آقا و مطاع محبوب خدا مقصود کائنات حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی رنگ میں بھی تو ہین کی جائے۔وو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس رنج و غم پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے :۔۔۔میں سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالی گواہ ہے مجھے اپنی دشمنی اور اپنی تو ہین یا عزت اور تعظیم کا تو کچھ بھی خیال نہیں ہے۔میرے لئے جوا مر سخت ناگوار ہے اور ملال خاطر کا موجب ہمیشہ رہا ہے وہ یہی ہے کہ رسول اللہ صلی ایم جیسے کامل اور پاک انسان کی تو ہین کی جاتی ہے۔اس صادقوں کے سردار سراسر صدق کو کاذب کہا جاتا ہے۔۔۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 482) حضرت مسیح موعود عالیشام کے زمانہ میں جب ایسی دل آزار کتب شائع ہوئیں تو مسلمانوں کی طرف سے یہ کوشش کی گئی کہ گورنمنٹ ایسی کتابوں کو ضبط کر لے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ ام اس تجویز میں مضمر نقصانات کے پیش نظر اس کو پسند نہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: 240