قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 142 of 365

قسمت کے ثمار — Page 142

کے لئے آسان کر دیا جاتا ہے جن کے دل خشیت الہی ، عاجزی و مسکینی سے بھرے ہوتے ہیں۔اس قرآنی نسخہ کیمیا کو بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود بنی و تفسیر کبیر میں وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلُوةِ ، وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةُ إِلَّا عَلَى الْخَشِعِينَ) (البقرة 46) کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ایک اور نفسیاتی نکتہ بھی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ کسی کام کی درستی کے لئے دو امور کی 66 ضرورت ہوتی ہے۔اوّل: بیرونی بداثرات سے حفاظت ہو۔دوسرے اندرونی طاقت کو بڑھایا جائے۔اس آیت میں صبر کے لفظ سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ بیرونی بداثرات کا مقابلہ کرو اور صلوٰۃ کے لفظ سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کر کے اس کے فضلوں کو جذب کرو۔اس طرح کمزوری کے راستے بند ہوں گے اور طاقت کے حصول کے دروازے کھل جائیں گے اور تم کامیاب ہو جاؤ گے۔۔صبر کے معنے صرف جزع فزع سے بچنے کے ہی نہیں ہوتے بلکہ برے خیالات کا اثر قبول کرنے سے رکنے اور ان کا مقابلہ کرنے کے بھی ہوتے ہیں اوپر کی تفسیر میں یہی معنے مراد ہیں۔جب کوئی بداثرات کو ر ڈ کرے اور نیک اثرات کو قبول کرنے کی عادت ڈالے جو دعاؤں سے حاصل ہو سکتی ہے تو اس کے دل میں روحانیت پیدا ہو کر جو کام پہلے مشکل نظر آتا تھا آسان ہو جاتا ہے اور روحانی ترقی کی جنگ میں اسے فتح حاصل ہوتی ہے۔اگلے جملہ میں جو کبیرۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کے معنے بڑی' کے ہیں اور اس آیت میں موقع کے لحاظ سے مشکل امر کے معنے ہوتے ہیں۔اور خَاشِعِ کے معنے ڈرنے والے کے ہوتے ہیں۔لیکن قرآن کریم میں یہ لفظ جس جگہ بھی استعمال ہوا ہے اس ہستی سے ڈرنے کے معنوں میں استعمال ہوا ہے جس سے ڈرنا مناسب ہو۔چنانچہ خَاشِعِ کا لفظ سارے قرآن کریم میں 142